ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں عام انسان اپنی اور اپنے پیاروں کی سلامتی کے بارے میں ہر روز فکر مند ہے۔ بے یقینی، خوف، معاشی مشکلات اور معاشرتی بے حسی نے لوگوں کو ذہنی طور پر تھکا دیا ہے۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کے دکھ اور مشکلات سے لاتعلق ہوتا جا رہا ہے۔
کوئی بھی قوم صرف اپنی ضروریات پوری کرنے اور اپنے پیٹ کی فکر تک محدود ہو کر ترقی نہیں کر سکتی۔ ایک مضبوط قوم وہ ہوتی ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھیں، قانون سب کے لیے برابر ہو، کمزور کو تحفظ ملے اور ہر شہری کو یہ اعتماد ہو کہ ریاست مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
پاکستان کے ریاستی نمائندوں پر اس حوالے سے ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اقتدار صرف اختیار کا نام نہیں بلکہ خدمت، جواب دہی اور ذمہ داری کا نام ہے۔ جتنی زیادہ طاقت، اتنی ہی زیادہ ذمہ داری۔ عوام کو تحفظ، انصاف، بنیادی سہولیات اور ایک پُرامن ماحول فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے خلاف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے لیے کھڑے ہوں۔ حکومت، ادارے اور عوام مل کر ایسا پاکستان تشکیل دیں جہاں ایک عام شہری خوف کے بجائے امید کے ساتھ زندگی گزار سکے، جہاں جان و مال کا تحفظ یقینی ہو اور جہاں ہر شخص کو محسوس ہو کہ وہ اس ملک کے لیے اہم ہے۔
پاکستان صرف ایک ریاست نہیں، ہم سب کا مشترکہ گھر ہے۔ اگر ہم واقعی ایک مضبوط، پُرامن اور خوشحال پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں بے حسی چھوڑ کر ذمہ داری، انسانیت اور قومی یکجہتی کو اپنانا ہوگا۔ قومیں صرف وسائل سے نہیں، اپنے لوگوں کی حفاظت، اتحاد اور کردار سے ترقی کرتی ہیں۔
مصنف: فضل الرحمٰن
ریفارمر کوئٹہ
پاکستان کو محفوظ، ذمہ دار اور انسان دوست معاشرہ بنانا ہوگا

Leave a Reply