dailyreformer.pk
October 18, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
Tender Notice: Medical Superintendent District AwaranTender Notice: Director Procurement BPPPRAبلوچستان حکومت کی انتظامی اصلاحات، محکموں کی کارکردگی کا جائزہکوئٹہ میں ٹریفک سگنلز فعال، سیف سٹی سے نظام منسلک کرنے کا اعلانایس ایس پی ٹریفکسی پیک کے مغربی روٹ پر 310 ارب روپے کے شاہراہ منصوبےبلوچستان میں پولیو کے تمام 23 ماحولیاتی نمونے منفی قرارسعودی فنڈ سے بلوچستان میں آبی و روزگار منصوبہ؛ 32 فیصد کام مکمل ہونے کی سرکاری دستاویزی رپورٹبلوچستان میں گورنر راج کی ضرورت: ترقی، امن اور بہتر حکمرانی کا سوالNotice Inviting Tender: Agriculture Sohbat Purکوئٹہ کے بلوچ ٹریننگ ونگ میں بیسک ملٹری ٹریننگ 22 کی پروقار پاسنگ آؤٹ پریڈTender Notice: Medical Superintendent District AwaranTender Notice: Director Procurement BPPPRAبلوچستان حکومت کی انتظامی اصلاحات، محکموں کی کارکردگی کا جائزہکوئٹہ میں ٹریفک سگنلز فعال، سیف سٹی سے نظام منسلک کرنے کا اعلانایس ایس پی ٹریفکسی پیک کے مغربی روٹ پر 310 ارب روپے کے شاہراہ منصوبےبلوچستان میں پولیو کے تمام 23 ماحولیاتی نمونے منفی قرارسعودی فنڈ سے بلوچستان میں آبی و روزگار منصوبہ؛ 32 فیصد کام مکمل ہونے کی سرکاری دستاویزی رپورٹبلوچستان میں گورنر راج کی ضرورت: ترقی، امن اور بہتر حکمرانی کا سوالNotice Inviting Tender: Agriculture Sohbat Purکوئٹہ کے بلوچ ٹریننگ ونگ میں بیسک ملٹری ٹریننگ 22 کی پروقار پاسنگ آؤٹ پریڈ

پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی حمایت میں اضافہ، ملک گیر سروے میں عوامی رائے سامنے آگئی

پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی حمایت میں اضافہ، ملک گیر سروے میں عوامی رائے سامنے آگئی

اسلام آباد: پاکستان میں بہتر طرزِ حکمرانی، وسائل کی مؤثر تقسیم اور عوامی مسائل کے حل کے لیے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث ایک بار پھر زور پکڑ گئی ہے، جبکہ ایک ملک گیر سروے میں اکثریت نے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کی ہے۔

سنو ایف ایم کے سروے کے مطابق 75.52 فیصد شرکاء نے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کی، جبکہ 72.48 فیصد افراد نے نئے انتظامی یونٹس کو مسائل کے حل کا اہم ذریعہ قرار دیا۔

سروے میں مجموعی طور پر 4 ہزار 18 افراد نے حصہ لیا۔ شرکاء میں پنجاب سے 40.49 فیصد، سندھ سے 35.52 فیصد، خیبرپختونخوا سے 14.09 فیصد جبکہ بلوچستان سے 2 فیصد افراد شامل تھے۔

نئے صوبوں کی ممکنہ تعداد کے حوالے سے 40 فیصد سے زائد شرکاء کا کہنا تھا کہ اس کا تعین ماہرین کی مشاورت اور انتظامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔

سروے کے مطابق 26.40 فیصد شرکاء نے 24 صوبوں، 21.95 فیصد نے 12 جبکہ 11.45 فیصد نے 6 صوبوں کے تصور کی حمایت کی۔

سروے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ شرکاء کی ایک بڑی تعداد نئے انتظامی یونٹس کو بہتر حکمرانی، وسائل کی مؤثر تقسیم اور عوام تک سرکاری خدمات کی بہتر رسائی سے جوڑتی ہے۔ تاہم نئے صوبوں کا قیام ایک آئینی اور سیاسی معاملہ ہے، جس کے لیے پارلیمانی اور آئینی طریقۂ کار درکار ہوگا۔

شیئر کریں: WhatsApp

Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *