تحریر: فضل الرحمٰن روزنامہ ریفارمر کوئٹہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور قدرتی وسائل سے مالامال صوبہ ہے، لیکن بدقسمتی سے آج بھی یہاں کے عوام بنیادی سہولیات، معیاری تعلیم، صحت، روزگار، صاف پانی اور ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر تکمیل جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ صوبے میں موجودہ حکومتی کارکردگی اور انتظامی ترجیحات پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایسے حالات میں یہ بحث اہمیت اختیار کر چکی ہے کہ کیا بلوچستان کو بہتر حکمرانی، امن و امان اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے آئینی حدود کے اندر گورنر راج جیسے غیر معمولی انتظامی اقدام پر غور کیا جانا چاہیے؟بلوچستان کو محض سیاسی نعروں کی نہیں بلکہ عملی اقدامات، مؤثر منصوبہ بندی اور جواب دہ انتظامیہ کی ضرورت ہے۔ عوام کو ایسے حکومتی نظام کی ضرورت ہے جو ان کے مسائل کو سمجھے، وسائل کا شفاف استعمال یقینی بنائے اور ترقیاتی منصوبوں کے نتائج زمین پر دکھائے۔
صوبائی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو تحفظ، انصاف، تعلیم، صحت اور معاشی مواقع فراہم کرے۔ اگر عوامی مسائل مسلسل برقرار رہیں اور حکومتی اقدامات ان کے حل کے لیے ناکافی ثابت ہوں تو عوام میں مایوسی اور بے اعتمادی پیدا ہونا فطری امر ہے۔ یہی مایوسی بعض اوقات ریاستی اداروں کے خلاف منفی جذبات کو بھی تقویت دے سکتی ہے۔پاکستان کی مسلح افواج اور سیکیورٹی ادارے بلوچستان میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ تاہم صوبے میں شہری سہولیات کی کمی، انتظامی ناکامیوں اور ترقیاتی مسائل کا تمام تر بوجھ سیکیورٹی اداروں پر ڈالنا درست نہیں۔ صوبائی حکومت کو اپنی آئینی اور انتظامی ذمہ داریوں کے حوالے سے جواب دہ ہونا چاہیے تاکہ عوام کے سامنے ریاستی اداروں اور منتخب حکومت کے کردار میں واضح فرق موجود رہے۔میری رائے میں بلوچستان کے موجودہ حالات میں گورنر راج کے آئینی امکان پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک مؤثر، شفاف اور جواب دہ عبوری انتظامی نظام صوبے میں ترقیاتی ترجیحات کی ازسرنو ترتیب، سرکاری محکموں کی کارکردگی میں بہتری اور عوامی مسائل کے فوری حل کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ گورنر راج کسی صوبے کے تمام مسائل کا خودکار حل نہیں۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 234 کے تحت اس نوعیت کے اقدام کے لیے مخصوص آئینی شرائط اور پارلیمانی نگرانی کا طریقہ کار موجود ہے۔ محض ناقص کارکردگی یا سیاسی اختلاف کی بنیاد پر اسے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے کسی بھی غیر معمولی انتظامی فیصلے کو آئین، جمہوری اصولوں اور صوبائی خودمختاری کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
اگر آئینی حالات ایسے اقدام کا جواز فراہم کریں تو ضروری ہے کہ انتظامی اصلاحات کے لیے واضح اہداف مقرر کیے جائیں۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں کی بحالی، نوجوانوں کے لیے روزگار، ترقیاتی فنڈز کی شفاف نگرانی، ضلعی انتظامیہ کی جواب دہی اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کو اولین ترجیح دی جائے۔
بلوچستان کے عوام کو محض وعدوں، اعلانات اور سیاسی بیانات سے مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ انہیں عملی ترقی، بہتر سڑکیں، فعال ہسپتال، معیاری تعلیمی ادارے اور محفوظ مستقبل چاہیے۔ صوبے کے وسائل سے سب سے پہلے یہاں کے عوام کو فائدہ پہنچنا چاہیے۔یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ بلوچستان میں پائیدار امن صرف سیکیورٹی اقدامات سے ممکن نہیں، بلکہ انصاف، معاشی ترقی، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد سے ہی مضبوط ہو سکتا ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط بنانا ہر حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔بلوچستان کو ایک ایسے انتظامی نظام کی ضرورت ہے جو عوام کی خدمت کرے، نہ کہ عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے۔
آخر میں میرا مؤقف یہی ہے کہ اگر موجودہ صوبائی حکومت عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہتی ہے تو آئینی دائرے میں گورنر راج سمیت تمام قانونی اور انتظامی متبادل پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ لیکن کسی بھی فیصلے کی کامیابی کا اصل معیار عوام کی فلاح، شفاف حکمرانی، صوبائی حقوق کا تحفظ اور ترقیاتی نتائج ہونے چاہییں۔بلوچستان کی ترقی ہی پاکستان کی ترقی ہے، اور بلوچستان کے عوام کا اعتماد ہی ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے۔

Leave a Reply