خلاصہ: سعودی فنڈ فار ڈیولپمنٹ کی گرانٹ سے جاری Livelihood Restoration Project کے تحت بلوچستان میں مویشیوں کے لیے 30 اجتماعی تالاب، 40 پانی کے ٹینک، 10 واٹر ڈائیورژن اسٹرکچر، کنویں اور بعض روزگار معاون سرگرمیاں شامل ہیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق منصوبے کی مجموعی لاگت 15 لاکھ ڈالر ہے، جس میں سے 4 لاکھ 80 ہزار ڈالر خرچ ہوچکے اور مجموعی جسمانی پیش رفت 32 فیصد بتائی گئی ہے۔
عمل درآمد کی اصل صورتِ حال: 30 تالابوں کی بولی کا عمل 2024 میں شروع ہوا تھا، مگر اس کی bid evaluation ابھی سعودی فنڈ کی منظوری کی منتظر ہے۔ 40 ٹینکوں کی خریداری/تعمیر کا ٹینڈر جاری ہے۔ 10 آبی رخ موڑنے والے ڈھانچوں اور کنوؤں کی bid evaluation منظور ہوچکی، لیکن مسودۂ معاہدے کی منظوری باقی ہے۔ لہٰذا 32 فیصد مجموعی پیش رفت تصدیق شدہ سرکاری رپورٹ ہے، مگر 30 تالاب اور 40 ٹینک مکمل ہونے کا دعویٰ نہیں۔
عوامی اہمیت: منصوبہ خشک سالی سے متاثرہ اور مال مویشی پر انحصار کرنے والی دیہی آبادی کے لیے پانی اور معاش بحال کرنے سے متعلق ہے۔ تاہم رپورٹ میں مستفید ہونے والے اضلاع، مقامات، آبادی اور ہر اسکیم کی الگ جسمانی پیش رفت ظاہر نہیں کی گئی۔
Daily Reformer Quetta کا زاویہ: صوبائی منصوبہ یونٹ سے ضلع وار مقامات، مستفید خاندانوں کی تعداد، ٹھیکوں کی موجودہ حیثیت، خرچ شدہ 4.8 لاکھ ڈالر کی تفصیل اور تکمیل کی حتمی تاریخ طلب کی جائے—خصوصاً یہ جانچا جائے کہ 2024 سے زیرِعمل خریداری میں تاخیر کیوں ہوئی۔
مجوزہ سرخی:
“سعودی فنڈ کا بلوچستان آبی منصوبہ 32 فیصد مکمل؛ 30 تالاب اور 40 ٹینک اب بھی ٹینڈر و منظوری کے مراحل میں”
رپورٹ کی تاریخ: 16 اکتوبر 2026
متعلقہ پیش رفت: بولی کا آغاز 2024؛ سعودی فنڈ کا جائزہ مشن فروری 2026۔
سعودی فنڈ سے بلوچستان میں آبی و روزگار منصوبہ؛ 32 فیصد کام مکمل ہونے کی سرکاری دستاویزی رپورٹ

Leave a Reply