dailyreformer.pk
November 6, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
بلوچستان سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی نقل مکانی پر گورنر کا اظہارِ تشویشبلوچستان میں امن و امان کا اعلیٰ سطحی جائزہ، سیف سٹی منصوبوں کے لیے فنڈز کی ہدایتبلوچستان کے 9 شہروں میں سیف سٹی منصوبوں کے لیے پنجاب کا تعاونکوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسمِ سرما کی پہلی بارشTender Notice: Chief Officer Municipal Corporation HubTender Notice: Manager Sheikh Zayed Al Nahyan Institute of CardiologyTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District PanjgurTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District Gwadarبلوچستان میں 17 مبینہ دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں صحافیوں کا یومِ سیاہ، تنخواہوں اور میڈیا دفاتر کی بندش پر احتجاجبلوچستان سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی نقل مکانی پر گورنر کا اظہارِ تشویشبلوچستان میں امن و امان کا اعلیٰ سطحی جائزہ، سیف سٹی منصوبوں کے لیے فنڈز کی ہدایتبلوچستان کے 9 شہروں میں سیف سٹی منصوبوں کے لیے پنجاب کا تعاونکوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسمِ سرما کی پہلی بارشTender Notice: Chief Officer Municipal Corporation HubTender Notice: Manager Sheikh Zayed Al Nahyan Institute of CardiologyTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District PanjgurTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District Gwadarبلوچستان میں 17 مبینہ دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں صحافیوں کا یومِ سیاہ، تنخواہوں اور میڈیا دفاتر کی بندش پر احتجاج

بلوچستان کے ینگ ڈاکٹرز کا ریڈ زون میں احتجاج کا عندیہ

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے تیزاب گردی کا شکار ڈاکٹر ماہ نور کیس کے بعد پیش کیے گئے مطالبات پر کوئی بھی پیشرفت نہ ہونے پر ریڈ زون میں دھرنے کا عندیہ دے دیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صدر ڈاکٹر حئی بلوچ نے کہا ہے کہ ڈاکٹر ماہ نور کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے قائم احتجاجی کیمپ کو 22 روز مکمل ہو چکے ہیں، تاہم حکومت کی جانب سے اب تک ان کے مطالبات پر کوئی عملی پیش رفت نہیں کی گئی۔

کوئٹہ کے سول اسپتال میں  ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر حئی بلوچ نے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات آئین اور قانون کے منافی ہیں تو حکومت واضح طور پر اس کی نشاندہی کرے۔

انہوں نے کہا کہ گرینڈ ڈاکٹرز الائنس کے پلیٹ فارم سے تمام ڈاکٹرز نے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کر رکھا ہے اور وہ اپنے مطالبات کے حصول کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا بنیادی مطالبہ سیکرٹری صحت اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) سول ہسپتال کو عہدوں سے ہٹانا تھا، تاہم حکومت نے مطالبات پر عمل درآمد کے بجائے سول اسپتال میں ایک جونیئر افسر کو سینئر عہدے پر تعینات کر دیا، جبکہ مبینہ کرپشن کے معاملات پر بھی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔

ڈاکٹر حئی بلوچ نے الزام عائد کیا کہ حال ہی میں ٹراما سینٹر میں ایک پولیس اہلکار نے مبینہ طور پر نشے کی حالت میں ایک ڈاکٹر پر حملہ کیا، لیکن ذمہ داروں کے خلاف اب تک مؤثر قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو آج دوپہر 12 بجے ریڈ زون کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج مکمل طور پر پرامن ہوگا، تاہم مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔

اس موقع پر ڈاکٹر بہار شاہ نے کہا کہ اسپتالوں میں اسلحہ بردار افراد کا داخلہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مسائل کے حل کے بجائے انہیں مزید پیچیدہ بنا رہی ہے اور ٹراما سینٹر واقعے میں ملوث افراد کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان احتجاج کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ ڈاکٹر بہار شاہ نے سوال اٹھایا کہ سول ہسپتال میں پیش آنے والے تیزاب گردی کے واقعے میں کیا ڈاکٹر ملوث تھے؟

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آج کے احتجاج کے دوران طاقت کا استعمال کیا گیا تو بلوچستان بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں تمام طبی خدمات کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت بلوچستان پر عائد ہوگی۔

شیئر کریں: WhatsApp

Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *