dailyreformer.pk
November 5, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
بلوچستان سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی نقل مکانی پر گورنر کا اظہارِ تشویشبلوچستان میں امن و امان کا اعلیٰ سطحی جائزہ، سیف سٹی منصوبوں کے لیے فنڈز کی ہدایتبلوچستان کے 9 شہروں میں سیف سٹی منصوبوں کے لیے پنجاب کا تعاونکوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسمِ سرما کی پہلی بارشTender Notice: Chief Officer Municipal Corporation HubTender Notice: Manager Sheikh Zayed Al Nahyan Institute of CardiologyTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District PanjgurTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District Gwadarبلوچستان میں 17 مبینہ دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں صحافیوں کا یومِ سیاہ، تنخواہوں اور میڈیا دفاتر کی بندش پر احتجاجبلوچستان سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی نقل مکانی پر گورنر کا اظہارِ تشویشبلوچستان میں امن و امان کا اعلیٰ سطحی جائزہ، سیف سٹی منصوبوں کے لیے فنڈز کی ہدایتبلوچستان کے 9 شہروں میں سیف سٹی منصوبوں کے لیے پنجاب کا تعاونکوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسمِ سرما کی پہلی بارشTender Notice: Chief Officer Municipal Corporation HubTender Notice: Manager Sheikh Zayed Al Nahyan Institute of CardiologyTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District PanjgurTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District Gwadarبلوچستان میں 17 مبینہ دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں صحافیوں کا یومِ سیاہ، تنخواہوں اور میڈیا دفاتر کی بندش پر احتجاج

ریبیز کی نگرانی کا کوئی نظام نہیں، پاکستان میں ہر سال 5 ہزار افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں

ریبیز کی نگرانی کا کوئی نظام نہیں، پاکستان میں ہر سال 5 ہزار افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں

پاکستان میں ریبیز کی نگرانی کا کوئی باضابطہ نظام نہیں ہے، جس کی وجہ سے ملک میں ہر سال 5 ہزار افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر دی انڈس ہاسپٹل اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک نے وفد کے ہمراہ وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال سے ملاقات  کی ہے، جس میں پاکستان میں ریبیز کی روک تھام اور مؤثر کنٹرول کے لیے قومی سطح پر فوری اقدامات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر وفد نے  پاکستان میں ریبیز کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ ملک میں ریبیز کی نگرانی  کا کوئی مؤثر قومی نظام موجود نہیں ہے اور دستیاب اندازوں کے مطابق ہر سال تقریباً 5,000 افراد ریبیز کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہر سال لاکھوں کتوں کے کاٹنے کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد بچے، دیہی علاقوں اور شہری مضافات کی محروم آبادی ہیں۔

ملاقات میں وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے پاکستان میں ریبیز کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ۔ انہوں نے قومی ریبیز پریوینشن اینڈ کنٹرول فریم ورک کی تیاری کی اصولی منظوری دی۔

مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ  اس مقصد کے لیے جلد نیشنل ٹیکنیکل ورکنگ ایڈوائزری گروپ تشکیل دیا جائے گا، جو قومی فریم ورک کی تیاری کی قیادت کرے گا۔   قابلِ تدارک بیماری سے محفوظ رکھنے کے لیے ملک گیر آگاہی مہم بھی شروع کی جائے گی۔

انہوں نے بالخصوص وزیراعلیٰ سندھ کی زیرِ قیادت شروع کی گئی صوبہ بھر میں انسدادِ ریبیز مہم کو سراہا ۔ وزیر صحت مصطفی کمال نے دی انڈس ہاسپٹل اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کی ریبیز کی روک تھام کے لیے تکنیکی معاونت کو بھی سراہا۔

مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں اور تکنیکی شراکت داروں کے ذریعے پاکستان میں ریبیز سے ہونے والی قابلِ تدارک اموات کے خاتمے کے لیے پر عزم ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *