dailyreformer.pk
September 4, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
ٹینڈر کے لیے نوٹس: ڈپٹی ڈائریکٹر، زراعت (آن فارم واٹر مینجمنٹ)، ضلع بارکھاناطلاع عام:بلوچستان ہیلتھ کارڈ کے مریض سندھ کا سفر فی الحال مؤخر کریںمیجر جنرل فیصل نصیر تین سال کے لیے نیکٹا کے کوآرڈینیٹر مقرر نوٹیفیکشن جاریآپریشن ردالفتنہ 3؛ کچھی میں سیکیورٹی فورسز نے حملہ ناکام بنا دیا، کئی دہشتگرد ہلاکجون 2027ء تک پیٹرول کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے کا ہدف مقررملک میں مہنگائی کی رفتار بڑھ گئی؛ مزید 17 اشیا کی قیمتوں میں اضافہحکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات 7 ستمبر کو ہوں گےفلپائن کی عدالت نے نائب صدر کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیےجرمنی نے یوکرین کیلئے ڈرونز کی پیداوار میں اضافہ کردیاامریکا کو عرب ممالک اور ایرانی خودمختاری کی کوئی پروا نہیں، عباس عراقچیٹینڈر کے لیے نوٹس: ڈپٹی ڈائریکٹر، زراعت (آن فارم واٹر مینجمنٹ)، ضلع بارکھاناطلاع عام:بلوچستان ہیلتھ کارڈ کے مریض سندھ کا سفر فی الحال مؤخر کریںمیجر جنرل فیصل نصیر تین سال کے لیے نیکٹا کے کوآرڈینیٹر مقرر نوٹیفیکشن جاریآپریشن ردالفتنہ 3؛ کچھی میں سیکیورٹی فورسز نے حملہ ناکام بنا دیا، کئی دہشتگرد ہلاکجون 2027ء تک پیٹرول کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے کا ہدف مقررملک میں مہنگائی کی رفتار بڑھ گئی؛ مزید 17 اشیا کی قیمتوں میں اضافہحکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات 7 ستمبر کو ہوں گےفلپائن کی عدالت نے نائب صدر کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیےجرمنی نے یوکرین کیلئے ڈرونز کی پیداوار میں اضافہ کردیاامریکا کو عرب ممالک اور ایرانی خودمختاری کی کوئی پروا نہیں، عباس عراقچی

ڈیجیٹل میڈیا پالیسی اخبارات اور صحافیوں کے معاشی قتل کے مترادف ہے، مسترد کرتے ہیں ٗبلوچستان میڈیا فورم

کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) پرنٹ، الیکٹرانک، سوشل میڈیا سے وابستہ کارکن صحافیوں، نامہ نگاران اور وابستہ کارکنوں کی نمائندہ تنظیم ” بلوچستان میڈیا فورم ” نے حکومت کی متنازعہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے جاری کردہ اعلامیہ میں ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کو معاشی قتل عام پالیسی قرار دیتے ہوئے کہاگیا ہے۔ اس پالیسی سے مقامی اخبارات جو مدتوں سے بلوچستان اور عوام کی خدمت میں سرگرم عمل ہیں۔ انھیں بند کرنے کی سازش کی گئی ہے۔ اس عمل سے مقامی اخبارات سے وابستہ درجنوں سینئر صحافی، دفتری ملازمین، پرنٹنگ پریس کے درجنوں ملازمین،ہاکرز، مختلف علاقوں میں بطور نامہ نگاران صحافیانہ خدمات انجام دینے والے صحافی بیروزگارہورہے ہیں۔ اور صوبے سے حقیقی صحافت کا باب بندہونے والا ہے۔ جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے۔ کہ موجودہ حکومت کی دیگر ناکام، غیر سنجیدہ، اور غلط پالیسیوں اور فیصلوں کی طرح ڈیجیٹل میڈیا پالیسی بھی بلوچستان اور عوام دشمن فیصلہ ہے۔ جس سے بلوچستان کو کوئی فائدہ تو نہیں البتہ نقصان ضرور ہے۔ اعلامیہ میں سیاسی جماعتوں، ٹرانسپورٹرز، تاجر برادری، ٹریڈ یونینز، وکلا برادری، سماجی تنظیموں، انسانی حقوق کے اداروں اور تنظیموں اور صوبے بھر کے عوام سے اپیل کی گئی ہے۔ کہ وہ اس ظلم کیخلاف مقامی اخبارات اور ان سے متعلق سینکڑوں کارکنان کیلئے آواز بلند کریں۔ جو ان پر فرض بھی ہے۔ اعلامیہ میں وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے اپیل کی گئی ہے۔ کہ وہ متنازعہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی منسوخ کرکے اپنی حکومت کی کارکردگی میں کوئی تو اچھا شامل کریں۔ تاکہ تاریخ انہیں یاد رکھے۔ ورنہ اقتدار کے چند دن رہ گئے ہیں۔ اس کے بعد ان سینکڑوں صحافیوں، اخباری کارکنان، اور مقامی اخبارات کے مالکان کا سامنا کیسے کرینگے۔ جن کی بیروزگاری اور معاشی بدحالی کا سبب بن رہے ہیں۔ وگرنہ صوبائی حکومت اس ظالمانہ پالیسی کا بلوچستان اور عوام کو کوئی فائدہ ثابت کریں۔ ہم لبیک کہنے والوں کی فہرست میں صف اول میں ہونگے۔

شیئر کریں: WhatsApp

Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *