dailyreformer.pk
November 5, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
بلوچستان سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی نقل مکانی پر گورنر کا اظہارِ تشویشبلوچستان میں امن و امان کا اعلیٰ سطحی جائزہ، سیف سٹی منصوبوں کے لیے فنڈز کی ہدایتبلوچستان کے 9 شہروں میں سیف سٹی منصوبوں کے لیے پنجاب کا تعاونکوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسمِ سرما کی پہلی بارشTender Notice: Chief Officer Municipal Corporation HubTender Notice: Manager Sheikh Zayed Al Nahyan Institute of CardiologyTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District PanjgurTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District Gwadarبلوچستان میں 17 مبینہ دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں صحافیوں کا یومِ سیاہ، تنخواہوں اور میڈیا دفاتر کی بندش پر احتجاجبلوچستان سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی نقل مکانی پر گورنر کا اظہارِ تشویشبلوچستان میں امن و امان کا اعلیٰ سطحی جائزہ، سیف سٹی منصوبوں کے لیے فنڈز کی ہدایتبلوچستان کے 9 شہروں میں سیف سٹی منصوبوں کے لیے پنجاب کا تعاونکوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسمِ سرما کی پہلی بارشTender Notice: Chief Officer Municipal Corporation HubTender Notice: Manager Sheikh Zayed Al Nahyan Institute of CardiologyTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District PanjgurTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District Gwadarبلوچستان میں 17 مبینہ دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں صحافیوں کا یومِ سیاہ، تنخواہوں اور میڈیا دفاتر کی بندش پر احتجاج

ڈیجیٹل میڈیا پالیسی اخبارات اور صحافیوں کے معاشی قتل کے مترادف ہے، مسترد کرتے ہیں ٗبلوچستان میڈیا فورم

کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) پرنٹ، الیکٹرانک، سوشل میڈیا سے وابستہ کارکن صحافیوں، نامہ نگاران اور وابستہ کارکنوں کی نمائندہ تنظیم ” بلوچستان میڈیا فورم ” نے حکومت کی متنازعہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے جاری کردہ اعلامیہ میں ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کو معاشی قتل عام پالیسی قرار دیتے ہوئے کہاگیا ہے۔ اس پالیسی سے مقامی اخبارات جو مدتوں سے بلوچستان اور عوام کی خدمت میں سرگرم عمل ہیں۔ انھیں بند کرنے کی سازش کی گئی ہے۔ اس عمل سے مقامی اخبارات سے وابستہ درجنوں سینئر صحافی، دفتری ملازمین، پرنٹنگ پریس کے درجنوں ملازمین،ہاکرز، مختلف علاقوں میں بطور نامہ نگاران صحافیانہ خدمات انجام دینے والے صحافی بیروزگارہورہے ہیں۔ اور صوبے سے حقیقی صحافت کا باب بندہونے والا ہے۔ جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے۔ کہ موجودہ حکومت کی دیگر ناکام، غیر سنجیدہ، اور غلط پالیسیوں اور فیصلوں کی طرح ڈیجیٹل میڈیا پالیسی بھی بلوچستان اور عوام دشمن فیصلہ ہے۔ جس سے بلوچستان کو کوئی فائدہ تو نہیں البتہ نقصان ضرور ہے۔ اعلامیہ میں سیاسی جماعتوں، ٹرانسپورٹرز، تاجر برادری، ٹریڈ یونینز، وکلا برادری، سماجی تنظیموں، انسانی حقوق کے اداروں اور تنظیموں اور صوبے بھر کے عوام سے اپیل کی گئی ہے۔ کہ وہ اس ظلم کیخلاف مقامی اخبارات اور ان سے متعلق سینکڑوں کارکنان کیلئے آواز بلند کریں۔ جو ان پر فرض بھی ہے۔ اعلامیہ میں وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے اپیل کی گئی ہے۔ کہ وہ متنازعہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی منسوخ کرکے اپنی حکومت کی کارکردگی میں کوئی تو اچھا شامل کریں۔ تاکہ تاریخ انہیں یاد رکھے۔ ورنہ اقتدار کے چند دن رہ گئے ہیں۔ اس کے بعد ان سینکڑوں صحافیوں، اخباری کارکنان، اور مقامی اخبارات کے مالکان کا سامنا کیسے کرینگے۔ جن کی بیروزگاری اور معاشی بدحالی کا سبب بن رہے ہیں۔ وگرنہ صوبائی حکومت اس ظالمانہ پالیسی کا بلوچستان اور عوام کو کوئی فائدہ ثابت کریں۔ ہم لبیک کہنے والوں کی فہرست میں صف اول میں ہونگے۔

شیئر کریں: WhatsApp

Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *