dailyreformer.pk
September 4, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات 7 ستمبر کو ہوں گےفلپائن کی عدالت نے نائب صدر کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیےجرمنی نے یوکرین کیلئے ڈرونز کی پیداوار میں اضافہ کردیاامریکا کو عرب ممالک اور ایرانی خودمختاری کی کوئی پروا نہیں، عباس عراقچیکوئٹہ: پہاڑوں کے حصار میں بسا خوبصورت شہرعلاقائی اخبارات کی اہمیت: معاشرے کی آواز اور تاریخ کا محفوظ ریکارڈایف آئی اے کا ملک گیر کریک ڈاؤن؛ انسانی اسمگلنگ میں ملوث 24 ملزمان گرفتارپنجاب میں کرپشن کے خلاف گرینڈ آپریشن؛ خفیہ سیل قائم ، گرفتاریاں شروعآن لائن فراڈ کال سینٹر کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن؛ 28 مبینہ ملزمان گرفتارزائد لاگت کے سبب چاول، چینی، کاٹن، پیاز، تل، آلو کی برآمدات کم ہوگئیں، سینیٹ قائمہ کمیٹیحکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات 7 ستمبر کو ہوں گےفلپائن کی عدالت نے نائب صدر کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیےجرمنی نے یوکرین کیلئے ڈرونز کی پیداوار میں اضافہ کردیاامریکا کو عرب ممالک اور ایرانی خودمختاری کی کوئی پروا نہیں، عباس عراقچیکوئٹہ: پہاڑوں کے حصار میں بسا خوبصورت شہرعلاقائی اخبارات کی اہمیت: معاشرے کی آواز اور تاریخ کا محفوظ ریکارڈایف آئی اے کا ملک گیر کریک ڈاؤن؛ انسانی اسمگلنگ میں ملوث 24 ملزمان گرفتارپنجاب میں کرپشن کے خلاف گرینڈ آپریشن؛ خفیہ سیل قائم ، گرفتاریاں شروعآن لائن فراڈ کال سینٹر کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن؛ 28 مبینہ ملزمان گرفتارزائد لاگت کے سبب چاول، چینی، کاٹن، پیاز، تل، آلو کی برآمدات کم ہوگئیں، سینیٹ قائمہ کمیٹی

گوگل نے اپنی ارتھ سروس سے متنازع فیچر واپس لے لیا

گوگل نے اپنی ارتھ سروس سے متنازع فیچر واپس لے لیا

ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے گوگل ارتھ میں متعارف کرایا گیا نیا مصنوعی ذہانت (اے آئی) فیچر صرف ایک دن بعد ہی واپس لے لیا۔

کمپنی کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب صارفین نے ایسے اے آئی سے تیار کردہ تصاویر شیئر کرنا شروع کر دیں جو گوگل کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرتی دکھائی دیں۔

گوگل ارتھ کے پروڈکٹ مینیجر برائن ہورووٹز نے ایک بیان میں کہاکہ لوگ گوگل ارتھ پر دنیا کا قابلِ اعتماد منظر دیکھنے کے لیے بھروسہ کرتے ہیں۔ کمپنی نے دیکھا کہ جغرافیائی ماہرین اس فیچر کو کئی مفید مقاصد کے لیے استعمال کر رہے تھے لیکن کچھ صارفین نے ایسی تصاویر شیئر کیں جو کمپنی پالیسیوں کے خلاف معلوم ہوتی ہیں۔ اسی لیے کمپنی مضبوط حفاظتی اقدامات (گارڈ ریلز) نافذ ہونے تک اس فیچر کو عارضی طور پر واپس لے رہی ہے۔

یہ فیچر گوگل کے نینو بنانا 2 اے آئی ماڈل سے چلتا تھا جس کے ذریعے صارف صرف ایک تحریری ہدایت (پرامپٹ) لکھ کر دنیا کے کسی بھی مقام کی حقیقت سے قریب تر تصاویر تیار کر سکتے تھے۔ یہ تصاویر گوگل ارتھ میں موجود سیٹلائٹ، فضائی اور تھری ڈی ڈیٹا کی بنیاد پر بنائی جاتی تھیں۔

گوگل کے مطابق اے آئی سے تیار ہونے والی تمام تصاویر پر واضح واٹرمارک موجود تھا تاکہ انہیں اصل تصاویر سے الگ پہچانا جا سکے اور یہ تصاویر عام گوگل ارتھ کے تجربے میں دوسرے صارفین کو نظر بھی نہیں آتی تھیں۔

کمپنی کے مطابق وہ اس فیچر کو مزید محفوظ بنانے کے لیے نئے حفاظتی اقدامات پر کام کر رہی ہے، جس کے بعد اسے دوبارہ متعارف کرایا جا سکتا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *