dailyreformer.pk
September 4, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات 7 ستمبر کو ہوں گےفلپائن کی عدالت نے نائب صدر کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیےجرمنی نے یوکرین کیلئے ڈرونز کی پیداوار میں اضافہ کردیاامریکا کو عرب ممالک اور ایرانی خودمختاری کی کوئی پروا نہیں، عباس عراقچیکوئٹہ: پہاڑوں کے حصار میں بسا خوبصورت شہرعلاقائی اخبارات کی اہمیت: معاشرے کی آواز اور تاریخ کا محفوظ ریکارڈایف آئی اے کا ملک گیر کریک ڈاؤن؛ انسانی اسمگلنگ میں ملوث 24 ملزمان گرفتارپنجاب میں کرپشن کے خلاف گرینڈ آپریشن؛ خفیہ سیل قائم ، گرفتاریاں شروعآن لائن فراڈ کال سینٹر کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن؛ 28 مبینہ ملزمان گرفتارزائد لاگت کے سبب چاول، چینی، کاٹن، پیاز، تل، آلو کی برآمدات کم ہوگئیں، سینیٹ قائمہ کمیٹیحکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات 7 ستمبر کو ہوں گےفلپائن کی عدالت نے نائب صدر کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیےجرمنی نے یوکرین کیلئے ڈرونز کی پیداوار میں اضافہ کردیاامریکا کو عرب ممالک اور ایرانی خودمختاری کی کوئی پروا نہیں، عباس عراقچیکوئٹہ: پہاڑوں کے حصار میں بسا خوبصورت شہرعلاقائی اخبارات کی اہمیت: معاشرے کی آواز اور تاریخ کا محفوظ ریکارڈایف آئی اے کا ملک گیر کریک ڈاؤن؛ انسانی اسمگلنگ میں ملوث 24 ملزمان گرفتارپنجاب میں کرپشن کے خلاف گرینڈ آپریشن؛ خفیہ سیل قائم ، گرفتاریاں شروعآن لائن فراڈ کال سینٹر کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن؛ 28 مبینہ ملزمان گرفتارزائد لاگت کے سبب چاول، چینی، کاٹن، پیاز، تل، آلو کی برآمدات کم ہوگئیں، سینیٹ قائمہ کمیٹی

سمندر کی ہزاروں میٹر گہرائی میں بھی مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی کا انکشاف

سمندر کی ہزاروں میٹر گہرائی میں بھی مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی کا انکشاف

سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ مائیکرو پلاسٹک کے ذرات سمندر کی ہزاروں میٹر گہرائی میں واقع ایسے ماحولیاتی نظام تک بھی پہنچ چکے ہیں جہاں سورج کی روشنی تک نہیں پہنچتی، جس سے سمندری آلودگی کے پھیلاؤ پر نئی تشویش جنم لے رہی ہے۔

تحقیق کے مطابق ہر سال تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ ٹن سے زائد پلاسٹک سمندروں میں شامل ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ یہ پلاسٹک ٹوٹ کر نہایت باریک ذرات، یعنی مائیکرو پلاسٹک، میں تبدیل ہو جاتا ہے، جو سمندری دھاراؤں کے ذریعے دور دراز علاقوں تک پھیل جاتے ہیں۔

ماہرین نے بتایا کہ یہ ذرات نہ صرف سمندری حیات کے لیے خطرہ بن رہے ہیں بلکہ غذائی زنجیر کے ذریعے انسانوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

اس سے قبل ہونے والی تحقیقات میں ساحلی علاقوں اور سمندر کی سطح پر مائیکرو پلاسٹک کی آلودگی کی تصدیق ہو چکی تھی۔ تاہم، گہرے سمندر میں موجود ماحولیاتی نظام پر اس کے اثرات کے بارے میں معلومات بہت محدود تھیں۔

محققین کے مطابق خاص طور پر سمندر کی تہہ میں موجود آتش فشانی وینٹ سسٹمز پر پلاسٹک آلودگی کے اثرات اب بھی واضح نہیں ہیں۔ یہ منفرد گہرے سمندری ماحول سورج کی روشنی کے بغیر بھی مختلف اقسام کی حیات کو سہارا دیتے ہیں اور اب ان میں بھی مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *