dailyreformer.pk
November 4, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
Tender Notice: Chief Officer Municipal Corporation HubTender Notice: Manager Sheikh Zayed Al Nahyan Institute of CardiologyTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District PanjgurTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District Gwadarبلوچستان میں 17 مبینہ دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں صحافیوں کا یومِ سیاہ، تنخواہوں اور میڈیا دفاتر کی بندش پر احتجاجبلوچستان اور سندھ کے لیے موسمِ سرما میں گیس کی فراہمی کا شیڈول جاریکوئٹہ بائی پاس کا 86 فیصد اور آواران ہوشاب شاہراہ کا 64 فیصد کام مکملبلوچستان کے ڈیم منصوبوں کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ، سینیٹ کمیٹی کا اظہارِ تشویشبلوچستان میں امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس، وزیراعلیٰ کی اہم ہدایاتTender Notice: Chief Officer Municipal Corporation HubTender Notice: Manager Sheikh Zayed Al Nahyan Institute of CardiologyTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District PanjgurTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District Gwadarبلوچستان میں 17 مبینہ دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں صحافیوں کا یومِ سیاہ، تنخواہوں اور میڈیا دفاتر کی بندش پر احتجاجبلوچستان اور سندھ کے لیے موسمِ سرما میں گیس کی فراہمی کا شیڈول جاریکوئٹہ بائی پاس کا 86 فیصد اور آواران ہوشاب شاہراہ کا 64 فیصد کام مکملبلوچستان کے ڈیم منصوبوں کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ، سینیٹ کمیٹی کا اظہارِ تشویشبلوچستان میں امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس، وزیراعلیٰ کی اہم ہدایات

سمندر کی ہزاروں میٹر گہرائی میں بھی مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی کا انکشاف

سمندر کی ہزاروں میٹر گہرائی میں بھی مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی کا انکشاف

سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ مائیکرو پلاسٹک کے ذرات سمندر کی ہزاروں میٹر گہرائی میں واقع ایسے ماحولیاتی نظام تک بھی پہنچ چکے ہیں جہاں سورج کی روشنی تک نہیں پہنچتی، جس سے سمندری آلودگی کے پھیلاؤ پر نئی تشویش جنم لے رہی ہے۔

تحقیق کے مطابق ہر سال تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ ٹن سے زائد پلاسٹک سمندروں میں شامل ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ یہ پلاسٹک ٹوٹ کر نہایت باریک ذرات، یعنی مائیکرو پلاسٹک، میں تبدیل ہو جاتا ہے، جو سمندری دھاراؤں کے ذریعے دور دراز علاقوں تک پھیل جاتے ہیں۔

ماہرین نے بتایا کہ یہ ذرات نہ صرف سمندری حیات کے لیے خطرہ بن رہے ہیں بلکہ غذائی زنجیر کے ذریعے انسانوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

اس سے قبل ہونے والی تحقیقات میں ساحلی علاقوں اور سمندر کی سطح پر مائیکرو پلاسٹک کی آلودگی کی تصدیق ہو چکی تھی۔ تاہم، گہرے سمندر میں موجود ماحولیاتی نظام پر اس کے اثرات کے بارے میں معلومات بہت محدود تھیں۔

محققین کے مطابق خاص طور پر سمندر کی تہہ میں موجود آتش فشانی وینٹ سسٹمز پر پلاسٹک آلودگی کے اثرات اب بھی واضح نہیں ہیں۔ یہ منفرد گہرے سمندری ماحول سورج کی روشنی کے بغیر بھی مختلف اقسام کی حیات کو سہارا دیتے ہیں اور اب ان میں بھی مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *