تحریر: فضل الرحمٰن علاقائی اخبارات کسی بھی معاشرے میں محض خبروں کی ترسیل کا ذریعہ نہیں بلکہ عوام، حکومت اور ریاستی اداروں کے درمیان ایک مضبوط رابطہ، مقامی مسائل کی مؤثر آواز اور تاریخ کا قابلِ اعتماد تحریری ریکارڈ ہوتے ہیں۔ بالخصوص بلوچستان جیسے وسیع و عریض اور جغرافیائی طور پر منفرد صوبے میں علاقائی صحافت کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے، جہاں آج بھی متعدد دور دراز علاقوں اور دیہات میں انٹرنیٹ اور جدید ڈیجیٹل ذرائع تک رسائی محدود ہے۔بلوچستان کے شہریوں کو حکومتی ترقیاتی منصوبوں، نئی پالیسیوں، عوامی سہولیات، سرکاری اقدامات، روزگار کے مواقع اور دیگر اہم امور سے باخبر رکھنے میں علاقائی اخبارات بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ قومی میڈیا کی توجہ عموماً بڑے قومی اور بین الاقوامی معاملات پر مرکوز رہتی ہے، جبکہ علاقائی اخبارات چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہات کے ان مسائل کو بھی نمایاں کرتے ہیں جو بصورتِ دیگر قومی سطح پر جگہ حاصل نہیں کر پاتے۔یہی علاقائی صحافت کی اصل طاقت ہے کہ وہ عام شہری کی آواز کو ایوانِ اقتدار تک پہنچاتی ہے۔ کسی دور افتادہ علاقے میں سڑک کی خستہ حالی ہو، پانی اور بجلی کا مسئلہ، تعلیم و صحت کی سہولیات کا فقدان ہو یا کسی ترقیاتی منصوبے میں تاخیر—مقامی اخبار ان مسائل کو دستاویزی شکل دے کر متعلقہ حکام اور عوام کے سامنے لاتا ہے۔بلوچستان کے بہت سے علاقوں میں آج بھی اخبار اور میگزین معلومات حاصل کرنے کا ایک قابلِ اعتماد ذریعہ ہیں۔ حتیٰ کہ جہاں انٹرنیٹ دستیاب ہے، وہاں بھی ایسے قارئین موجود ہیں جو مسلسل موبائل اور کمپیوٹر اسکرین استعمال کرنے کے بجائے کاغذ پر خبر پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ پرنٹ میڈیا قاری کو خبر کو توجہ، سکون اور سنجیدگی سے پڑھنے کا ایک مختلف تجربہ فراہم کرتا ہے۔اخبار صرف آج کی خبر نہیں، کل کی تاریخ بھی ہےاخبارات کی اہمیت موجودہ حالات کی رپورٹنگ تک محدود نہیں۔ ہر شائع ہونے والا شمارہ اپنے دور کی سیاسی، سماجی، معاشی اور انتظامی تاریخ کا ایک تحریری دستاویز بھی بن جاتا ہے۔ سرکاری دفاتر، عدالتیں، جامعات، تحقیقی ادارے، کاروباری تنظیمیں اور دیگر ادارے مختلف مواقع پر پرانے اخبارات کو معلومات، تحقیق اور حوالہ جات کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔اگر آج کسی محقق، صحافی یا شہری کو چالیس سال پہلے شائع ہونے والی کسی خبر، حکومتی اعلان، سیاسی واقعے یا مقامی مسئلے کا ریکارڈ درکار ہو تو محفوظ شدہ اخبارات کے شمارے ایک قیمتی تاریخی ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ڈیجیٹل دور نے معلومات تک رسائی بلاشبہ انتہائی تیز اور آسان بنا دی ہے، لیکن یہ تصور درست نہیں کہ انٹرنیٹ پر موجود ہر چیز ہمیشہ محفوظ رہے گی۔ ویب سائٹس بند ہوسکتی ہیں، ڈیجیٹل مواد تبدیل یا حذف ہوسکتا ہے، تکنیکی خرابی پیش آسکتی ہے اور سائبر حملوں یا انٹرنیٹ کی بندش کے باعث معلومات تک رسائی عارضی یا مستقل طور پر متاثر ہوسکتی ہے۔ اس کے برعکس محفوظ شدہ اخباری ریکارڈ ایک ایسا فزیکل حوالہ فراہم کرتا ہے جو دہائیوں بعد بھی تحقیق اور تاریخ کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔اسی لیے پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کو ایک دوسرے کا حریف یا متبادل بنانے کے بجائے ایک دوسرے کا معاون سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اخبارات اپنی رسائی دنیا بھر تک بڑھا سکتے ہیں، جبکہ پرنٹ ایڈیشن اور محفوظ فزیکل آرکائیوز معاشرے کا مستقل تاریخی ریکارڈ محفوظ رکھنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔بلوچستان میں علاقائی صحافت کا تحفظ کیوں ضروری ہے؟بلوچستان کی آبادی وسیع جغرافیائی رقبے میں پھیلی ہوئی ہے اور صوبے کے مختلف علاقوں کے مسائل اور ضروریات بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ایسے حالات میں علاقائی اخبارات وہ پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں جہاں مقامی لوگوں کی مشکلات، کامیابیاں، ثقافت، ترقیاتی ضروریات اور حکومتی سرگرمیاں نمایاں ہوسکتی ہیں۔اگر علاقائی صحافت کمزور ہوتی ہے تو صرف اخبارات متاثر نہیں ہوتے بلکہ مقامی سطح پر عوام کی ایک اہم آواز بھی کمزور پڑتی ہے۔ اس لیے علاقائی اخبارات کی بقا کو محض ایک کاروباری مسئلہ سمجھنا درست نہیں؛ یہ معلومات تک عوامی رسائی، مقامی احتساب، تاریخی ریکارڈ اور معاشرتی شعور سے جڑا معاملہ ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان میں علاقائی اخبارات کی حوصلہ افزائی کی جائے، ان کے فزیکل آرکائیوز کو منظم انداز میں محفوظ کیا جائے اور ساتھ ہی پرانے شماروں کو جدید ڈیجیٹل آرکائیوز میں منتقل کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔ اس طرح پرنٹ کی تاریخی پائیداری اور ڈیجیٹل دنیا کی آسان رسائی دونوں سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ایک باشعور اور مضبوط معاشرہ صرف آج کی خبر نہیں پڑھتا بلکہ اپنی تاریخ بھی محفوظ کرتا ہے۔ علاقائی اخبار آج کی خبر، عوام کی آواز اور آنے والی نسلوں کے لیے کل کا تاریخی ریکارڈ ہے۔

Leave a Reply