تحریر: فضل الرحمٰن پاکستان کو معاشی استحکام، بدعنوانی کے خاتمے اور تیز رفتار ترقی کے لیے اپنے موجودہ طرزِ حکمرانی پر سنجیدہ قومی بحث کی ضرورت ہے۔ ایک متبادل تصور ایسا صدارتی نظام ہوسکتا ہے جس میں وفاق مضبوط ہو، جبکہ اختیارات براہِ راست یونین کونسل، بلدیاتی نمائندوں، میئرز اور صوبائی سطح پر گورنرز تک منتقل کیے جائیں۔ اس ماڈل کے حامی یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ اگر مقامی حکومتیں مکمل طور پر بااختیار ہوں تو کیا مہنگے اور پیچیدہ صوبائی اسمبلیوں کے موجودہ ڈھانچے کی ضرورت باقی رہتی ہے؟اس نظام میں عوام براہِ راست اپنے مقامی نمائندوں اور مضبوط مرکزی قیادت کو جواب دہ ٹھہرا سکیں، ترقیاتی فنڈز طویل سیاسی مراحل سے گزرنے کے بجائے شہروں، اضلاع اور یونین کونسلوں تک پہنچیں، اور سرکاری وسائل کا حساب عوام کے سامنے ہو۔ مقصد ایک مضبوط انتظامی قیادت ہونا چاہیے، لیکن ایسی قیادت جو آئین، آزاد عدلیہ اور قانون کے سامنے خود بھی جواب دہ ہو؛ کیونکہ بے لگام شخصی اختیار بدعنوانی ختم کرنے کے بجائے نئی خرابیوں کو جنم دے سکتا ہے۔پاکستان کی مسلح افواج اور آرمی چیف قومی سلامتی اور ریاستی استحکام میں اہم کردار رکھتے ہیں۔ معاشی سلامتی بھی قومی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے، اس لیے عسکری قیادت اپنی آئینی حدود کے اندر امن، پالیسی کے تسلسل اور ریاستی اداروں کے درمیان تعاون میں مثبت کردار ادا کرسکتی ہے۔ تاہم ملک کی سیاسی و معاشی حکمرانی کا حتمی اختیار آئین اور عوامی مینڈیٹ سے حاصل ہونا چاہیے۔پاکستان کو ایسا نظام درکار ہے جہاں بلوچ، پنجابی، پشتون، سندھی، سرائیکی یا کسی بھی علاقے سے تعلق رکھنے والا شہری قانون کی نظر میں برابر ہو؛ طاقتور اور کمزور کے لیے ایک ہی قانون ہو؛ اور کرپشن کرنے والا خواہ کسی بھی منصب پر ہو، بلاامتیاز جواب دہ ہو۔صدارتی نظام ہو یا کوئی دوسرا ماڈل، کامیابی کا اصل راستہ مضبوط قیادت، بااختیار بلدیاتی حکومتیں، شفاف احتساب، مساوی حقوق اور قانون کی بالادستی ہے۔ اگر ایسی بڑی آئینی تبدیلی عوامی مینڈیٹ اور قومی اتفاقِ رائے سے کی جائے تو پاکستان اپنے انتظامی وسائل کو بہتر استعمال کرکے ایک مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ ریاست بننے کی سمت تیزی سے آگے بڑھ سکتا ہے۔
صدارتی نظام اور مضبوط مقامی حکومتیں: پاکستان کے لیے ایک متبادل طرزِ حکمرانی

Leave a Reply