تحریر: فضل الرحمٰن
حالیہ دنوں میں حکومتی اداروں اور مختلف انتظامی شعبوں میں اچانک تیزی، اصلاحات اور احتیاطی اقدامات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ مسائل اور چیلنجز پہلے سے موجود تھے تو گزشتہ ڈھائی برسوں میں ان کے حل کے لیے یہی سنجیدگی اور رفتار کیوں نظر نہیں آئی؟
میری رائے میں پاکستان کا بنیادی مسئلہ صرف حکومتوں کی تبدیلی نہیں بلکہ حکمرانی کے موجودہ پیچیدہ اور مہنگے ڈھانچے میں بھی پوشیدہ ہے۔ ملک کو ایسے نظام پر سنجیدہ قومی بحث کی ضرورت ہے جس میں اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں، یونین کونسلرز اور بااختیار مقامی حکومتیں عوام کے سامنے براہِ راست جوابدہ ہوں، جبکہ صوبائی سطح پر گورنرز ایک مؤثر انتظامی کردار ادا کریں۔
ایک مضبوط صدارتی نظام، اگر آئینی حدود، آزاد عدلیہ، مؤثر احتساب اور مضبوط مقامی حکومتوں کے ساتھ قائم کیا جائے، تو فیصلہ سازی میں تیزی، سرکاری اخراجات میں کمی اور عوام تک اختیارات کی منتقلی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
پاکستان کو شخصیات سے زیادہ ایک ایسے مضبوط نظام کی ضرورت ہے جو عام پاکستانی کو اقتدار کے قریب لائے۔ اصل طاقت صرف ایک مضبوط مرکز نہیں، بلکہ ایک ایسا مضبوط مرکز ہونا چاہیے جس کی بنیاد بااختیار عوام اور مقامی حکومتوں پر قائم ہو۔
پاکستان کو انتظامی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت

Leave a Reply