تحریر: فضل الرحمٰن
اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ایک ایسی سرزمین عطا کی ہے جو قدرتی حسن، بلند و بالا پہاڑی سلسلوں، وسیع میدانوں، زرخیز زمینوں، طویل ساحلی پٹی اور قیمتی قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ بلوچستان کے معدنی ذخائر سے لے کر شمال کے پہاڑوں، سندھ و پنجاب کی زرخیز زمینوں اور بحیرۂ عرب کے ساحل تک، ہمارے پاس ترقی کے وہ قدرتی وسائل موجود ہیں جو پاکستان کو دنیا کی مضبوط معیشتوں میں شامل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اصل ضرورت ان وسائل کو صرف زمین کے اندر موجود دولت سمجھنے کے بجائے صنعتی طاقت میں تبدیل کرنے کی ہے۔ معدنیات کو خام شکل میں فروخت کرنے کے بجائے پاکستان میں ہی ان کی پروسیسنگ، ریفائننگ اور ویلیو ایڈیشن کی جائے۔ کان کنی، دھات سازی، توانائی، زراعت، ماہی گیری، سیاحت اور جدید مینوفیکچرنگ کے بڑے صنعتی مراکز قائم کیے جائیں تو یہی وسائل اربوں ڈالر کی برآمدات، روزگار اور سرمایہ کاری کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔خصوصاً بلوچستان کی معدنی دولت اور ساحلی محلِ وقوع کو جدید انفراسٹرکچر، شفاف سرمایہ کاری اور مقامی آبادی کی حقیقی شراکت کے ساتھ ترقی دی جائے تو یہ خطہ پاکستان کی معاشی ترقی کا ایک بڑا انجن بن سکتا ہے۔ لیکن قدرتی دولت تبھی قومی طاقت بنتی ہے جب اس کے فوائد عوام تک پہنچیں، ماحول محفوظ رہے اور آمدنی تعلیم، صحت، صنعت اور بنیادی ڈھانچے پر خرچ ہو۔پاکستان کو دنیا کے سامنے ایک زیادہ مضبوط، خود کفیل اور خوشحال ملک بنانے کے لیے ہمارے پاس زمین بھی ہے، وسائل بھی اور انسانی صلاحیت بھی۔ اب ضرورت طویل مدتی منصوبہ بندی، دیانت دارانہ حکمرانی اور وسائل کو قومی صنعت میں تبدیل کرنے کے عزم کی ہے۔ قدرت نے ہمیں امکانات دیے ہیں؛ انہیں عظیم پاکستان کی بنیاد بنانا ہماری ذمہ داری ہے۔

Leave a Reply