کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ وسیع رقبے پر پھیلے بلوچستان کو صرف کوئٹہ میں بیٹھ کر ایک انتظامی اکائی کے طور پر مؤثر انداز میں کنٹرول نہیں کیا جاسکتا، اس لیے ملک میں نئے صوبوں کی تشکیل لسانی نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر ہونی چاہیے۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر قومی اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام پر اتفاق رائے پیدا ہوتا ہے تو بلوچستان اسمبلی بھی اس معاملے پر پیش رفت کیلئے تیار ہے۔ ان کے مطابق بہتر طرزِ حکمرانی، عوام تک حکومتی رسائی اور انتظامی امور کو مؤثر بنانے کیلئے مضبوط انتظامی ڈھانچہ وقت کی ضرورت ہے۔سرفراز بگٹی نے صوبے میں امن و امان کیلئے سول ملٹری توازن اور مشترکہ کوششوں کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔ انہوں نے سرکاری بھرتیوں میں کرپشن پر زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی۔وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ بلوچستان کے عوام کی بہتر حکمرانی، امن اور ترقی کیلئے انتظامی اصلاحات پر سنجیدہ قومی مکالمہ ہونا چاہیے۔
بلوچستان کو مؤثر انداز میں چلانے کیلئے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے ناگزیر ہیں، سرفراز بگٹی

Leave a Reply