تحریر: فضل الرحمٰن پاکستان محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ہماری شناخت، ہمارا گھر اور آنے والی نسلوں کی امید ہے۔ ہمیں اپنی پاک فوج اور تمام سیکیورٹی فورسز کے ان اہلکاروں کی حوصلہ افزائی اور ان سے یکجہتی کا اظہار کرنا چاہیے جو ملک اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ یہ جوان بھی اسی معاشرے، انہی شہروں اور انہی خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جن سے ہم سب تعلق رکھتے ہیں۔ہمیں اختلافات سے بالاتر ہو کر پاکستان کے مفاد کو مقدم رکھنا چاہیے۔ وطن کی اہمیت پانی میں رہنے والی مچھلی کے لیے پانی جیسی ہے؛ ایک محفوظ وطن ہی ہمیں اپنی زندگی، شناخت اور مستقبل تعمیر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ پاکستان اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، جہاں آئینی طور پر مسلمانوں سمیت مختلف مذاہب کے شہریوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس آزادی اور باہمی احترام کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
دنیا کے مختلف معاشروں میں اسلاموفوبیا، اینٹی سیمیٹزم اور دیگر مذہبی تعصبات کے واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ نفرت خواہ کسی مذہب یا برادری کے خلاف ہو، معاشرے کو تقسیم کرتی ہے۔ جنوبی ایشیا میں بھی مذہبی مقامات اور اقلیتوں کے خلاف تشدد اور کشیدگی کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ پاکستان کو اس کے برعکس ایسا معاشرہ بنانے کی کوشش کرنی چاہیے جہاں مسجد، چرچ، مندر، گوردوارہ یا کسی بھی عبادت گاہ کا احترام ہو اور ہر شہری خود کو محفوظ اور برابر سمجھے۔
وطن سے محبت صرف نعروں سے ثابت نہیں ہوتی۔ اس کا اصل اظہار اس وقت ہوتا ہے جب ہم کسی ضرورت مند کی مدد کریں، اپنے فرائض دیانت داری سے انجام دیں، قانون کا احترام کریں، تعلیم اور ترقی میں حصہ ڈالیں اور ایک دوسرے کے لیے آسانی پیدا کریں۔
ہماری رنگت، زبان، نسل یا مذہب مختلف ہوسکتا ہے، لیکن انسانیت اور پاکستان ہمیں ایک دوسرے سے جوڑ سکتے ہیں۔ پاکستان ہمارا گھر ہے، اور اس گھر کو محفوظ، مضبوط اور خوشحال بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے

Leave a Reply