تحریر: فضل الرحمٰن
بلوچستان ہمارا گھر ہے، اور اپنے گھر کے امن، سلامتی اور مستقبل کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کئی دہائیوں سے دہشت گردی اور تشدد نے ہمارے صوبے کے امن کو نقصان پہنچایا، قیمتی جانیں چھینی ہیں اور ترقی کے سفر میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔ اب وقت ہے کہ بلوچستان کے نوجوان اختلافات سے بالاتر ہو کر امن کے لیے ایک مضبوط اور متحد آواز بنیں۔دہشت گردی صرف ریاست یا سیکیورٹی اداروں کے خلاف حملہ نہیں ہوتی؛ اس کا سب سے بڑا نقصان عام شہری کو اٹھانا پڑتا ہے۔ جب کسی سڑک پر دھماکا ہوتا ہے، کسی مزدور، استاد، طالب علم یا مسافر کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کا دکھ پورے معاشرے تک پہنچتا ہے۔ خوف کاروبار، تعلیم، روزگار اور سرمایہ کاری کو متاثر کرتا ہے اور بالآخر نوجوانوں کے مستقبل کو محدود کردیتا ہے۔اسی لیے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد صرف پاکستان آرمی، پولیس، لیویز، ایف سی یا دیگر سیکیورٹی اداروں کی ذمہ داری سمجھنا کافی نہیں۔ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد اور قانون کے دائرے میں تعاون بھی اہم ہے۔ شہری مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع متعلقہ حکام کو دے سکتے ہیں، دہشت گردی کے پروپیگنڈے اور نفرت انگیز مواد کو آگے بڑھانے سے گریز کرسکتے ہیں اور اپنے علاقوں میں امن، برداشت اور قانون کی بالادستی کے لیے آواز اٹھا سکتے ہیں۔ تاہم کسی بھی مشتبہ شخص کے خلاف خود کارروائی کرنے کے بجائے معاملہ قانونی اداروں کے سپرد کیا جانا چاہیے۔بلوچستان کے نوجوان اس جدوجہد میں خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ دہشت گرد تنظیمیں نوجوانوں کی محرومی، غصے اور بے یقینی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرسکتی ہیں۔ اس کا مؤثر جواب تعلیم، روزگار، سیاسی و سماجی شرکت، مکالمے اور انصاف کے ساتھ ساتھ انتہا پسندانہ بیانیوں کے خلاف شعور پیدا کرنا ہے۔ نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ تشدد مسائل کا حل نہیں؛ تشدد بالآخر انہی شہروں، خاندانوں اور آنے والی نسلوں کو نقصان پہنچاتا ہے جن کے مستقبل کے نام پر اسے جائز قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ہمیں اپنی پاکستان آرمی اور تمام سیکیورٹی فورسز کے ان اہلکاروں کی قربانیوں کا احترام کرنا چاہیے جو ملک اور شہریوں کی حفاظت کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کررہے ہیں۔ اس کے ساتھ ریاستی اداروں کی ذمہ داری بھی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں قانون، شہریوں کے تحفظ اور بنیادی حقوق کو مقدم رکھتے ہوئے کی جائیں، کیونکہ دیرپا امن صرف طاقت سے نہیں بلکہ عوامی اعتماد، انصاف اور بہتر طرزِ حکمرانی سے مضبوط ہوتا ہے۔بلوچستان کے عوام امن چاہتے ہیں۔ ہمیں ایسا صوبہ چاہیے جہاں نوجوان بندوق کے بجائے کتاب اٹھائے، مزدور بے خوف ہو کر روزگار کے لیے نکلے، بچے محفوظ طریقے سے اسکول جائیں اور ہر شہری اپنی زندگی اور مستقبل کے بارے میں پُرامید ہو۔ یہ مقصد تبھی حاصل ہوسکتا ہے جب حکومت، عوام، نوجوان، قبائلی و سماجی قیادت اور سیکیورٹی ادارے اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔دہشت گردی چاہے کسی بھی نام، نظریے یا مقصد کے تحت کی جائے، بے گناہ انسانوں کو نشانہ بنانے کا کوئی جواز نہیں۔ بلوچستان کو مزید خونریزی نہیں بلکہ امن، تعلیم، ترقی اور اتحاد کی ضرورت ہے۔
آئیے اپنے بلوچستان اور پاکستان کے امن کے لیے متحد ہوں، کیونکہ اتحاد ہماری طاقت ہے۔

Leave a Reply