تحریر: فضل الرحمٰن سب ایڈیٹر، روزنامہ ریفارمر کوئٹہ تاریخِ عالم میں اندلس کا دور ایک ایسی تہذیب کی یاد دلاتا ہے جس نے جزیرہ نما آئبیریا میں علم، فن، طب، فلسفہ، ریاضی، فلکیات، زراعت اور فنِ تعمیر کے میدانوں میں نمایاں ترقی کی۔ 711ء میں مسلمانوں کی آمد کے بعد قائم ہونے والا اندلس کئی صدیوں تک یورپ اور بحیرۂ روم کی دنیا کے اہم علمی و ثقافتی مراکز میں شمار ہوتا رہا۔قرطبہ، غرناطہ اور اشبیلیہ جیسے شہر اپنے تعلیمی اداروں، کتب خانوں، بازاروں، باغات اور شاندار عمارتوں کی وجہ سے شہرت رکھتے تھے۔ بالخصوص قرطبہ علم و دانش کا بڑا مرکز بن گیا جہاں مختلف علاقوں سے علماء اور طالب علم آتے تھے۔ طب، ریاضی، فلسفہ اور فلکیات سے متعلق عربی علمی ذخیرے اور قدیم یونانی علوم کے عربی سے لاطینی تراجم نے یورپ میں علمی سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔اندلس کی عظمت صرف اس کی عمارتوں یا سیاسی طاقت تک محدود نہیں تھی۔ اس تہذیب کی اصل طاقت علم، تحقیق اور فکری ترقی میں تھی۔ مسلم، عیسائی اور یہودی علماء کے درمیان علمی رابطوں نے بھی ایک ایسے ماحول کی تشکیل میں کردار ادا کیا جہاں مختلف علمی روایات ایک دوسرے تک پہنچیں۔غرناطہ کا الحمرا محل آج بھی اس دور کے فنِ تعمیر کی شاندار یادگار کے طور پر موجود ہے۔ 1492ء میں غرناطہ کے سقوط کے ساتھ جزیرہ نما آئبیریا میں مسلم سیاسی اقتدار کا خاتمہ ہوگیا، لیکن اندلس کا علمی اور ثقافتی ورثہ تاریخ میں باقی رہا۔اندلس کی تاریخ آج بھی یہ سبق دیتی ہے کہ کسی قوم کی پائیدار ترقی صرف طاقت سے نہیں بلکہ تعلیم، تحقیق، تخلیقی سوچ اور علم میں سرمایہ کاری سے ممکن ہوتی ہے۔ جو معاشرہ قلم اور علم کو اپنی طاقت بناتا ہے، وہ اپنی سرحدوں سے کہیں آگے تک اثر چھوڑ سکتا ہے۔
اندلس: جب مسلم اسپین علم و تہذیب کا عالمی مرکز تھا
Editor
اگلی خبر →
تیموری سلطنت — فتوحات، علم اور عظمت کا عہد

Leave a Reply