تحریر: فضل الرحمٰن سب ایڈیٹر، روزنامہ ریفارمر کوئٹہ
تاریخِ اسلام کے عظیم فاتحین میں سلطان محمد فاتح کا نام ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ وہ عظیم سپہ سالار جس نے محض 21 سال کی عمر میں 1453ء میں قسطنطنیہ فتح کرکے ایک ہزار سال سے زائد عرصے سے قائم بازنطینی سلطنت کا خاتمہ کردیا۔ ان کی اس تاریخی فتح نے یورپ کے ایوانوں میں خوف و ہراس پیدا کردیا اور دنیا کی سیاسی و عسکری تاریخ کا رخ بدل کر رکھ دیا۔
سلطان محمد فاتح محض ایک جنگجو نہیں بلکہ غیر معمولی بصیرت، مضبوط ارادے اور اعلیٰ عسکری حکمتِ عملی کے مالک تھے۔ انہوں نے قسطنطنیہ کو عثمانی سلطنت کا دارالحکومت بنا کر مشرق اور مغرب کے درمیان ایک نئی عالمی طاقت کی بنیاد مضبوط کی۔ ان کے بعد عثمانی سلطنت کا پرچم یورپ، ایشیا اور افریقہ کے وسیع علاقوں میں لہرانے لگا اور صدیوں تک عالمی سیاست، تجارت اور عسکری معاملات میں عثمانیوں کا اثر و رسوخ برقرار رہا۔
یہ عظیم سلطنت چھ صدیوں سے زائد عرصے تک قائم رہی، تاہم پہلی جنگِ عظیم کے بعد اس کا زوال اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوگیا۔ سلطان عبدالحمید ثانی، جو سلطنت کے آخری بااثر حکمرانوں میں شمار ہوتے ہیں، نے اپنے دور میں بڑھتے ہوئے اندرونی اور بیرونی دباؤ کے باوجود سلطنت کو متحد رکھنے کی کوشش کی۔ بالآخر 1922ء میں عثمانی سلطنت کا نظامِ سلطنت ختم کردیا گیا۔
سلطان محمد فاتح کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ عظمت عمر کی محتاج نہیں، بلکہ بلند حوصلے، علم، اتحاد، مضبوط قیادت اور غیر متزلزل عزم سے حاصل ہوتی ہے۔ سلطنتیں مٹ سکتی ہیں، لیکن تاریخ کا رخ بدلنے والے فاتحین کے کارنامے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

Leave a Reply