قلات: جمعیت علماء اسلام نظریاتی قلات اور جمہوری وطن پارٹی قلات نے بلوچستان حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کو روزگار کے نام پر برسوں سے انتظار کرایا جا رہا ہے۔ امیدواروں سے کاغذات جمع کرانے اور انٹرویوز لینے کے باوجود متعدد محکموں میں تقرری کے احکامات جاری نہیں کیے جا رہے۔مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ واپڈا میں طویل عرصے سے بھرتیاں نہ ہونے جبکہ پبلک ہیلتھ میں کئی افراد کے برسوں سے عارضی بنیادوں پر خدمات انجام دینے کے باوجود مستقل نہ کیے جانے سے نوجوانوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔رہنماؤں نے سرکاری افسران کے اثاثوں اور مہنگی تعمیرات سے متعلق اٹھنے والے سوالات کی شفاف جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری عہدہ عوامی خدمت اور قومی امانت ہے، اسے ذاتی مفادات کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ زیرِ التوا تقرریوں کے معاملات فوری نمٹائے جائیں، دیرینہ عارضی ملازمین کے مستقبل کا منصفانہ فیصلہ کیا جائے اور نوجوانوں کو اعلانات کے بجائے عملی طور پر روزگار فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے نوجوان خیرات نہیں بلکہ اپنے جائز حق، روزگار اور محفوظ مستقبل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بلوچستان حکومت کے دعوے کھوکھلے، نوجوان برسوں سے روزگار کے منتظر

Leave a Reply