کراچی:
سانحہ گل پلازہ کیس میں ملزم قرار دیے جانے والے تنویر پاستا اور دیگر نے پولیس تفتیش کو سٹی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔
تنویر پاستا اور دیگر نے شیخ جاوید میر، محمود وار ثمرین احتشام ایڈووکیٹس کے توسط سے درخواست دائر کر دی۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ ایس بی سی اے، کے ایم سی، فائر بریگیڈ کو ملزم بنایا جائے یا تفتیش دوبارہ کی جائے، دوبارہ تفتیش کے لیے حساس اداروں کے نمائندوں کے ساتھ مشترکہ تفتیشی ٹیم بنائی جائے۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ پولیس نے سرکاری اداروں کی نااہلی کو چھانے کی کوشش کی ہے۔
وکیل درخواست گزار شیخ جاوید میر کے مطابق 11 سالہ حذیفہ کو دیگر ملزمان کے ساتھ ملزم بنانا قانون کی خلاف ورزی ہے، 11 حذیفہ کا مقدمہ الگ کیا جائے۔
واضح رہے کہ پولیس نے اپنی تفتیش کے بعد عدالت میں چالان جمع کرواتے ہوئے تنویر پاستا سمیت دیگر کو ملزم نامزد کیا تھا۔
دوسری جانب، ملزمان نے ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع بھی کرلیا۔ ملزمان میں تنویر پاستا، عمار اسماعیل، محمد امین، محمد رمضان، 11 سالہ حذیفہ اور اس کے والد نعمت اللہ شامل ہیں۔
درخواست ضمانت میں موقف اپنایا گیا کہ پولیس نے سرکاری اداروں کی نااہلی چھپانے کے لیے ہمیں ملزم بنا دیا ہے، ہم نے واقعے کے بعد سیکڑوں لوگوں کو باہر نکالا تھا، سرکاری ادارے تاخیر سے پہنچے اور انکے پسا پانی اور دیگر متعلقہ سامان بھی نہیں تھا۔
ضمانت کی درخواست پر آج ہی سماعت متوقع ہے۔

Leave a Reply