dailyreformer.pk
October 17, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
Tender Notice: Medical Superintendent District AwaranTender Notice: Director Procurement BPPPRAبلوچستان حکومت کی انتظامی اصلاحات، محکموں کی کارکردگی کا جائزہکوئٹہ میں ٹریفک سگنلز فعال، سیف سٹی سے نظام منسلک کرنے کا اعلانایس ایس پی ٹریفکسی پیک کے مغربی روٹ پر 310 ارب روپے کے شاہراہ منصوبےبلوچستان میں پولیو کے تمام 23 ماحولیاتی نمونے منفی قرارسعودی فنڈ سے بلوچستان میں آبی و روزگار منصوبہ؛ 32 فیصد کام مکمل ہونے کی سرکاری دستاویزی رپورٹبلوچستان میں گورنر راج کی ضرورت: ترقی، امن اور بہتر حکمرانی کا سوالNotice Inviting Tender: Agriculture Sohbat Purکوئٹہ کے بلوچ ٹریننگ ونگ میں بیسک ملٹری ٹریننگ 22 کی پروقار پاسنگ آؤٹ پریڈTender Notice: Medical Superintendent District AwaranTender Notice: Director Procurement BPPPRAبلوچستان حکومت کی انتظامی اصلاحات، محکموں کی کارکردگی کا جائزہکوئٹہ میں ٹریفک سگنلز فعال، سیف سٹی سے نظام منسلک کرنے کا اعلانایس ایس پی ٹریفکسی پیک کے مغربی روٹ پر 310 ارب روپے کے شاہراہ منصوبےبلوچستان میں پولیو کے تمام 23 ماحولیاتی نمونے منفی قرارسعودی فنڈ سے بلوچستان میں آبی و روزگار منصوبہ؛ 32 فیصد کام مکمل ہونے کی سرکاری دستاویزی رپورٹبلوچستان میں گورنر راج کی ضرورت: ترقی، امن اور بہتر حکمرانی کا سوالNotice Inviting Tender: Agriculture Sohbat Purکوئٹہ کے بلوچ ٹریننگ ونگ میں بیسک ملٹری ٹریننگ 22 کی پروقار پاسنگ آؤٹ پریڈ

وزیراعظم سے ملاقات میں پیٹرولیم لیوی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو لانگ مارچ کریں گے، حافظ نعیم الرحمٰن

لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کی تمام تر رکاوٹوں اور غیر جمہوری رویوں کے باوجود کارکنان نے لاہور جلسے کو کامیاب بنا کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ میدان میں موجود ہیں۔

منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی چارسدہ، صوابی، ساہیوال، سرگودھا، لاڑکانہ، کرک اور کراچی میں بھی جلسے کرے گی، جبکہ پٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر دستخطی مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے اور وزیراعظم کی وطن واپسی پر لیوی ختم نہ ہونے کی صورت میں لانگ مارچ شروع کیا جائے گا۔حافظ نعیم نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف معاہدے میں لیوی کا کوئی ذکر نہیں، حکمران 1300 سی سی گاڑیاں استعمال کر کے اپنے اخراجات کم کریں، وفاق سود ختم کرے اور 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی محکموں کے لیے فنڈز مختص کرنا بند کرے، بدقسمتی سے اپوزیشن سمیت دیگر سیاسی پارٹیاں عوامی مسائل پر بات نہیں کرتیں۔

انہوں نے وزیراعظم کی اقوام متحدہ میں تقریر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں مقبوضہ کشمیر، یاسین ملک سمیت اسیر رہنماؤں اور فلسطین میں اسرائیلی مظالم کا تفصیلی ذکر اور کھل کر مذمت نہیں کی گئی۔خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی باتوں کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے پی ٹی آئی کے پرامن احتجاج کو ان کا آئینی حق قرار دیا اور عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ججز تمام مراعات حاصل کرنے کے باوجود عوامی مسائل پر انصاف فراہم نہیں کرتے۔

شیئر کریں: WhatsApp

Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *