dailyreformer.pk
October 18, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
Tender Notice: Medical Superintendent District AwaranTender Notice: Director Procurement BPPPRAبلوچستان حکومت کی انتظامی اصلاحات، محکموں کی کارکردگی کا جائزہکوئٹہ میں ٹریفک سگنلز فعال، سیف سٹی سے نظام منسلک کرنے کا اعلانایس ایس پی ٹریفکسی پیک کے مغربی روٹ پر 310 ارب روپے کے شاہراہ منصوبےبلوچستان میں پولیو کے تمام 23 ماحولیاتی نمونے منفی قرارسعودی فنڈ سے بلوچستان میں آبی و روزگار منصوبہ؛ 32 فیصد کام مکمل ہونے کی سرکاری دستاویزی رپورٹبلوچستان میں گورنر راج کی ضرورت: ترقی، امن اور بہتر حکمرانی کا سوالNotice Inviting Tender: Agriculture Sohbat Purکوئٹہ کے بلوچ ٹریننگ ونگ میں بیسک ملٹری ٹریننگ 22 کی پروقار پاسنگ آؤٹ پریڈTender Notice: Medical Superintendent District AwaranTender Notice: Director Procurement BPPPRAبلوچستان حکومت کی انتظامی اصلاحات، محکموں کی کارکردگی کا جائزہکوئٹہ میں ٹریفک سگنلز فعال، سیف سٹی سے نظام منسلک کرنے کا اعلانایس ایس پی ٹریفکسی پیک کے مغربی روٹ پر 310 ارب روپے کے شاہراہ منصوبےبلوچستان میں پولیو کے تمام 23 ماحولیاتی نمونے منفی قرارسعودی فنڈ سے بلوچستان میں آبی و روزگار منصوبہ؛ 32 فیصد کام مکمل ہونے کی سرکاری دستاویزی رپورٹبلوچستان میں گورنر راج کی ضرورت: ترقی، امن اور بہتر حکمرانی کا سوالNotice Inviting Tender: Agriculture Sohbat Purکوئٹہ کے بلوچ ٹریننگ ونگ میں بیسک ملٹری ٹریننگ 22 کی پروقار پاسنگ آؤٹ پریڈ

ایندھن کا ذخیرہ کم؛ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل بحران کا خطرہ

ایندھن کا ذخیرہ کم؛ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل بحران کا خطرہ

کراچی: 

ملک میں ایندھن کا ذخیرہ کم ہونے کی وجہ سے پیٹرول اور ڈیزل کے بحران کا خطرہ پیدا ہوگیا۔

آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے وفاقی وزیر پیٹرولیم اور چیئرمین اوگرا کو ہنگامی خط لکھ دیا، جس میں سرمایے کی قلت کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی خریداری متاثر ہونے سے خبردار کیا گیا ہے۔

او سی اے سی کے مطابق ملک میں پیٹرول کا صرف 18 دن جبکہ ڈیزل کا 27 دن کا ذخیرہ باقی رہ گیا ہے۔ تیل منگوانے کے لیے دستیاب سرمایہ مسلسل کم ہورہا ہے، جس کے باعث ملک میں تیل کے اسٹریٹیجک ذخائر برقرار رکھنا بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ حکومت پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے 66 ارب 70 کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔ یہ بھاری رقم پرائس ڈیفرینشیل کلیمز اور مارجن کی مد میں پھنسی ہوئی ہے، جس سے کمپنیوں کی مالی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے۔

آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اپنے اسٹاک سے پیٹرول اور ڈیزل فروخت کرکے بینکوں اور سپلائرز کو ادائیگیاں کررہی ہیں۔ حکومت کی جانب پھنسی ہوئی رقم پیٹرول کے تقریباً 5 کارگوز کے برابر ہے۔

او سی اے سی کے جنرل سیکریٹری ناظر عباس زیدی نے کہا کہ واجبات کی ادائیگی کے لیے 15 دن کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم 6 ماہ گزرنے کے باوجود یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اوگرا کے سامنے بھی اس معاملے پر شنوائی نہیں ہورہی۔

او سی اے سی نے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ اوگرا فوری طور پر کلیمز کی رقم جاری کرے تاکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو درپیش سرمایے کی قلت دور کی جاسکے اور پیٹرول و ڈیزل کی خریداری متاثر نہ ہو۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈیلرز کے مارجن میں اضافہ کردیا گیا ہے، تاہم آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا 1.22 روپے فی لیٹر مارجن اب تک نہیں بڑھایا گیا۔

شیئر کریں: WhatsApp

Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *