dailyreformer.pk
November 5, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
بلوچستان سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی نقل مکانی پر گورنر کا اظہارِ تشویشبلوچستان میں امن و امان کا اعلیٰ سطحی جائزہ، سیف سٹی منصوبوں کے لیے فنڈز کی ہدایتبلوچستان کے 9 شہروں میں سیف سٹی منصوبوں کے لیے پنجاب کا تعاونکوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسمِ سرما کی پہلی بارشTender Notice: Chief Officer Municipal Corporation HubTender Notice: Manager Sheikh Zayed Al Nahyan Institute of CardiologyTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District PanjgurTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District Gwadarبلوچستان میں 17 مبینہ دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں صحافیوں کا یومِ سیاہ، تنخواہوں اور میڈیا دفاتر کی بندش پر احتجاجبلوچستان سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی نقل مکانی پر گورنر کا اظہارِ تشویشبلوچستان میں امن و امان کا اعلیٰ سطحی جائزہ، سیف سٹی منصوبوں کے لیے فنڈز کی ہدایتبلوچستان کے 9 شہروں میں سیف سٹی منصوبوں کے لیے پنجاب کا تعاونکوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسمِ سرما کی پہلی بارشTender Notice: Chief Officer Municipal Corporation HubTender Notice: Manager Sheikh Zayed Al Nahyan Institute of CardiologyTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District PanjgurTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District Gwadarبلوچستان میں 17 مبینہ دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں صحافیوں کا یومِ سیاہ، تنخواہوں اور میڈیا دفاتر کی بندش پر احتجاج

سولر فیول بنانے والا مصنوعی ضیائی تالیف کا نظام تیار

محققین نے مصنوعی فوٹوسنتھیسز پر مبنی ایک جدید نظام تیار کیا ہے جو سورج کی روشنی، پانی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو استعمال کرتے ہوئے براہِ راست قابلِ استعمال ایندھن میں تبدیل کر سکتا ہے اور اس کے لیے نہ بیٹریوں کی ضرورت ہے اور نہ ہی پیچیدہ الیکٹرانک کنٹرول سسٹمز کی۔

یہ پیش رفت قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ اس سے شمسی ایندھن کی پیداوار نہ صرف سادہ ہو سکتی ہے بلکہ اس کی مجموعی لاگت میں بھی نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

خودکار نظام سے کارکردگی میں بہتری

مصنوعی فوٹوسنتھیسز کا بنیادی مقصد قدرتی عمل کی نقل کرنا ہے جس میں پودے سورج کی روشنی کو کیمیائی توانائی میں تبدیل کرتے ہیں۔ سائنس دان اسی عمل کو استعمال کرتے ہوئے ایسا نظام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ایک ساتھ ایندھن پیدا کرے اور ماحول میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کم کرے۔

اس نئی ایجاد میں سب سے بڑا مسئلہ یعنی دن بھر سورج کی روشنی کی شدت میں تبدیلی کو حل کر لیا گیا ہے۔ عام طور پر ایسے سسٹمز کو بیٹریوں اور بیرونی کنٹرول یونٹس کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اس نئے الیکٹرولائزر نے یہ ضرورت ختم کر دی ہے۔ یہ آلہ خود بخود روشنی کی شدت کے مطابق اپنی برقی کارکردگی کو ایڈجسٹ کرتا ہے، جس سے ایندھن کی پیداوار زیادہ مستحکم ہو جاتی ہے۔

حقیقی ماحول میں کامیاب تجربات

تحقیقی ٹیم نے اس ٹیکنالوجی کو کھلے ماحول میں آزمایا تاکہ مختلف موسموں اور روشنی کی حالتوں میں اس کی کارکردگی دیکھی جا سکے۔ نتائج کے مطابق یہ نظام کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی کو فارمیٹک ایسڈ (Formic Acid) میں تبدیل کرنے میں کامیاب رہا، جو نہ صرف ایندھن کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے بلکہ توانائی ذخیرہ کرنے کے لیے بھی کارآمد ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ روشنی کی شدت میں اتار چڑھاؤ کے باوجود یہ خودکار نظام اپنی پیداوار کو مستحکم رکھنے میں کامیاب رہا، جو اسے عملی استعمال کے قریب لے جاتا ہے۔

مستقبل کے امکانات اور لاگت میں کمی

اطلاعات کے مطابق اوساکا میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے محققین نے اس ٹیکنالوجی کا مظاہرہ ایکسپو 2025 اوساکا میں بھی کیا تھا، جہاں اس نظام نے اتنی فارمیٹک ایسڈ پیدا کی کہ ایک چھوٹے ڈسپلے کو چلایا جا سکا۔

اس ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ بیٹریوں، کنورٹرز اور اضافی الیکٹرانکس کو ختم کر کے سسٹم کو زیادہ سادہ اور سستا بنا سکتی ہے، جس سے مستقبل میں اسے بڑے پیمانے پر تیار اور استعمال کرنا آسان ہو جائے گا۔

قابلِ تجدید توانائی کی سمت ایک اہم پیش رفت

اگرچہ ابھی اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر تجارتی استعمال کے لیے مزید ترقی کی ضرورت ہے لیکن یہ پیش رفت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مستقبل میں سورج کی روشنی سے براہِ راست صاف ایندھن تیار کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔

یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا میں ماحول دوست توانائی کی ضرورت مسلسل بڑھ رہی ہے اور ایسی ٹیکنالوجیز مستقبل میں فوسل فیولز پر انحصار کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں

شیئر کریں: WhatsApp

Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *