dailyreformer.pk
November 5, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
بلوچستان سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی نقل مکانی پر گورنر کا اظہارِ تشویشبلوچستان میں امن و امان کا اعلیٰ سطحی جائزہ، سیف سٹی منصوبوں کے لیے فنڈز کی ہدایتبلوچستان کے 9 شہروں میں سیف سٹی منصوبوں کے لیے پنجاب کا تعاونکوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسمِ سرما کی پہلی بارشTender Notice: Chief Officer Municipal Corporation HubTender Notice: Manager Sheikh Zayed Al Nahyan Institute of CardiologyTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District PanjgurTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District Gwadarبلوچستان میں 17 مبینہ دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں صحافیوں کا یومِ سیاہ، تنخواہوں اور میڈیا دفاتر کی بندش پر احتجاجبلوچستان سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی نقل مکانی پر گورنر کا اظہارِ تشویشبلوچستان میں امن و امان کا اعلیٰ سطحی جائزہ، سیف سٹی منصوبوں کے لیے فنڈز کی ہدایتبلوچستان کے 9 شہروں میں سیف سٹی منصوبوں کے لیے پنجاب کا تعاونکوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسمِ سرما کی پہلی بارشTender Notice: Chief Officer Municipal Corporation HubTender Notice: Manager Sheikh Zayed Al Nahyan Institute of CardiologyTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District PanjgurTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District Gwadarبلوچستان میں 17 مبینہ دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں صحافیوں کا یومِ سیاہ، تنخواہوں اور میڈیا دفاتر کی بندش پر احتجاج

مصنوعی ذہانت کا بڑھتا استعمال، ماحولیات سے متعلق انتباہ جاری!

اقوامِ متحدہ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے استعمال سے ماحول پر پڑھنے والے سنگین اثرات کو سنجیدگی سے لینے کے لیے خبردار کر دیا۔

اقوامِ متحدہ نے ایک سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے دنیا بھر کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے ماحولیاتی اثرات کا سنجیدگی سے سامنا کریں، کیونکہ تیزی سے پھیلتی ہوئی یہ ٹیکنالوجی توانائی، پانی کی طلب اور کاربن اخراج میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔

اے آئی ڈیٹا سینٹرز وسائل کے بے تحاشہ استعمال کے لیے بدنام ہیں۔ انہیں چلانے کے لیے بڑی مقدار میں بجلی درکار ہوتی ہے، ٹھنڈا رکھنے کے لیے بے شمار پانی استعمال ہوتا ہے جبکہ ان کے قیام کے لیے وسیع اراضی بھی درکار ہوتی ہے۔

کینیڈا میں قائم یو این انسٹیٹیوٹ فار واٹر، انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ کی ایک رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ اے آئی کا ماحولیاتی اثر صرف ڈیٹا سینٹرز تک محدود نہیں۔ کمپیوٹر چپس کی تیاری، نایاب معدنیات کے استعمال اور بڑھتے ہوئے الیکٹرانک فضلے کی صورت میں بھی یہ ٹیکنالوجی ماحول پر بھاری بوجھ ڈال رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق صرف بنیادی ڈھانچے ہی نہیں بلکہ اربوں صارفین کی روزمرہ سرگرمیاں بھی اس بوجھ میں اضافہ کرتی ہیں۔ ہر سوال، ہر تحریری ہدایت (پرامپٹ)، ہر تیار کی گئی تصویر اور ہر سرچ کو انجام دینے کے لیے درکار کمپیوٹنگ طاقت ماحول پر اضافی دباؤ ڈالتی ہے۔

رپورٹ میں حکومتوں، کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت سے متعلق ہر فیصلے میں ماحولیاتی عوامل کو بنیادی اہمیت دیں، تاکہ اس طاقتور ٹیکنالوجی کی ترقی پائیدار رہے اور مستقبل میں ماحول کے لیے ایک بڑا خطرہ نہ بن جائے۔

شیئر کریں: WhatsApp

Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *