dailyreformer.pk
September 4, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات 7 ستمبر کو ہوں گےفلپائن کی عدالت نے نائب صدر کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیےجرمنی نے یوکرین کیلئے ڈرونز کی پیداوار میں اضافہ کردیاامریکا کو عرب ممالک اور ایرانی خودمختاری کی کوئی پروا نہیں، عباس عراقچیکوئٹہ: پہاڑوں کے حصار میں بسا خوبصورت شہرعلاقائی اخبارات کی اہمیت: معاشرے کی آواز اور تاریخ کا محفوظ ریکارڈایف آئی اے کا ملک گیر کریک ڈاؤن؛ انسانی اسمگلنگ میں ملوث 24 ملزمان گرفتارپنجاب میں کرپشن کے خلاف گرینڈ آپریشن؛ خفیہ سیل قائم ، گرفتاریاں شروعآن لائن فراڈ کال سینٹر کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن؛ 28 مبینہ ملزمان گرفتارزائد لاگت کے سبب چاول، چینی، کاٹن، پیاز، تل، آلو کی برآمدات کم ہوگئیں، سینیٹ قائمہ کمیٹیحکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات 7 ستمبر کو ہوں گےفلپائن کی عدالت نے نائب صدر کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیےجرمنی نے یوکرین کیلئے ڈرونز کی پیداوار میں اضافہ کردیاامریکا کو عرب ممالک اور ایرانی خودمختاری کی کوئی پروا نہیں، عباس عراقچیکوئٹہ: پہاڑوں کے حصار میں بسا خوبصورت شہرعلاقائی اخبارات کی اہمیت: معاشرے کی آواز اور تاریخ کا محفوظ ریکارڈایف آئی اے کا ملک گیر کریک ڈاؤن؛ انسانی اسمگلنگ میں ملوث 24 ملزمان گرفتارپنجاب میں کرپشن کے خلاف گرینڈ آپریشن؛ خفیہ سیل قائم ، گرفتاریاں شروعآن لائن فراڈ کال سینٹر کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن؛ 28 مبینہ ملزمان گرفتارزائد لاگت کے سبب چاول، چینی، کاٹن، پیاز، تل، آلو کی برآمدات کم ہوگئیں، سینیٹ قائمہ کمیٹی

خبردار! اپنے بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کی غلطی نہ کیجئے

برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ بچوں کی تصاویر یا ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرتے وقت انتہائی احتیاط برتیں، کیونکہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ان تصاویر کا خطرناک انداز میں غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق معمول کی خاندانی تصاویر بھی سائبر جرائم پیشہ افراد کے ہاتھ لگنے کے بعد جعلی اور نازیبا مواد میں تبدیل کی جا سکتی ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر بچوں کی تصاویر شیئر کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان، جسے ماہرین ’شرینٹنگ‘ (Sharenting) کہتے ہیں، نے نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ والدین اکثر یادگار لمحات دوسروں کے ساتھ بانٹنے کے لیے تصاویر پوسٹ کرتے ہیں، مگر یہی مواد بعض اوقات بچوں کی پرائیویسی اور تحفظ کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

نیشنل کرائم ایجنسی کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر مصنوعی ذہانت کے ذریعے عام تصاویر کو حقیقت سے قریب تر جعلی تصاویر اور ویڈیوز میں تبدیل کر رہے ہیں، جنہیں بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق غیر قانونی مواد تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن کے اعداد و شمار بھی اس تشویشناک رجحان کی تصدیق کرتے ہیں۔ ادارے کے مطابق 2025 کے دوران اے آئی سے تیار کی گئی بچوں سے متعلق تقریباً 3 ہزار 500 جعلی تصاویر اور ویڈیوز رپورٹ ہوئیں، جبکہ 2024 میں ایسے کیسز کی تعداد صرف 13 تھی۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ اس نوعیت کے سائبر جرائم تیزی سے پھیل رہے ہیں۔

ماہرین والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ اپنی سوشل میڈیا پروفائلز کو پرائیویٹ رکھیں اور بچوں کی تصاویر صرف قابلِ اعتماد افراد کے ساتھ شیئر کریں۔ اس مقصد کے لیے ’کلوز فرینڈز‘ یا دیگر پرائیویسی فیچرز کا استعمال مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ والدین بچوں سے اس موضوع پر کھل کر بات کریں اور ان سے یہ ضرور پوچھیں کہ آیا وہ اپنی تصاویر یا ویڈیوز آن لائن شیئر کیے جانے پر رضامند ہیں یا نہیں۔ ان کے مطابق بچوں کی ڈیجیٹل پرائیویسی کا احترام اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا موجودہ دور میں پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *