dailyreformer.pk
September 4, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
کوئٹہ: پہاڑوں کے حصار میں بسا خوبصورت شہرعلاقائی اخبارات کی اہمیت: معاشرے کی آواز اور تاریخ کا محفوظ ریکارڈایف آئی اے کا ملک گیر کریک ڈاؤن؛ انسانی اسمگلنگ میں ملوث 24 ملزمان گرفتارپنجاب میں کرپشن کے خلاف گرینڈ آپریشن؛ خفیہ سیل قائم ، گرفتاریاں شروعآن لائن فراڈ کال سینٹر کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن؛ 28 مبینہ ملزمان گرفتارزائد لاگت کے سبب چاول، چینی، کاٹن، پیاز، تل، آلو کی برآمدات کم ہوگئیں، سینیٹ قائمہ کمیٹیامریکا کا ایران سے تجارت یا مدد کرنے والے ممالک کو سخت پیغام، پابندیاں لگانے کی دھمکیقطر کی کویت پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کیخلاف قرار دے دیابلوچستان کی نئی انتظامی تشکیل — چار صوبوں کا تصورنوٹس برائے طلبِ ٹینڈر: ایگزیکٹو انجینئر، پی ایچ ای (PHE) ڈویژن قلاتکوئٹہ: پہاڑوں کے حصار میں بسا خوبصورت شہرعلاقائی اخبارات کی اہمیت: معاشرے کی آواز اور تاریخ کا محفوظ ریکارڈایف آئی اے کا ملک گیر کریک ڈاؤن؛ انسانی اسمگلنگ میں ملوث 24 ملزمان گرفتارپنجاب میں کرپشن کے خلاف گرینڈ آپریشن؛ خفیہ سیل قائم ، گرفتاریاں شروعآن لائن فراڈ کال سینٹر کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن؛ 28 مبینہ ملزمان گرفتارزائد لاگت کے سبب چاول، چینی، کاٹن، پیاز، تل، آلو کی برآمدات کم ہوگئیں، سینیٹ قائمہ کمیٹیامریکا کا ایران سے تجارت یا مدد کرنے والے ممالک کو سخت پیغام، پابندیاں لگانے کی دھمکیقطر کی کویت پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کیخلاف قرار دے دیابلوچستان کی نئی انتظامی تشکیل — چار صوبوں کا تصورنوٹس برائے طلبِ ٹینڈر: ایگزیکٹو انجینئر، پی ایچ ای (PHE) ڈویژن قلات

کیا آپ جانتے ہیں دنیا کا پہلا کمپیوٹر وائرس دو پاکستانی بھائیوں نے تیار کیا تھا

کیا آپ جانتے ہیں دنیا کا پہلا کمپیوٹر وائرس دو پاکستانی بھائیوں نے تیار کیا تھا

یہ بات کافی سارے پاکستانیوں کیلئے حیرانی کا باعث ہوگی کہ دنیا کا پہلا کمپیوٹر وائرس پاکستانی شہریوں نے تیار کیا تھا۔

جی ہاں، کمپیوٹر وائرس جو معروف ٹیک کمپنیوں، ماہرین یہاں تک کہ کبھی کبھی قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن جاتا ہے، اُسے سب سے پہلے دو پاکستانی بھائیوں نے تیار کیا تھا۔

دنیا کا پہلا پی سی بوٹ سیکٹر وائرس، جس کا نام “برین” ہے، جنوری 1986 میں لاہور میں دو بھائیوں باسط فاروق علوی اور امجد فاروق علوی نے بنایا تھا۔

بھائیوں نے یہ وائرس دراصل ان کے میڈیکل سافٹ ویئر کی غیر قانونی کاپی (پائریسی) کو روکنے کے لیے ڈیزائن کیا تھا۔

یہ کمپیوٹر وائرس نقصان دہ ہونے کے بجائے دفاعی پہلو رکھتا تھا۔ یہ وائرس 5.25 انچ فلاپی ڈسک کے ذریعے اُس وقت پھیلتا تھا جب سافٹ ویئر کی غیر مجاز کاپیاں بنائی جاتی تھیں۔

“برین” وائرس بھائیوں کی دکان کے ایڈریس اور فون نمبرز کے ساتھ ایک پوشیدہ کاپی رائٹ پیغام پر مشتمل ہوتا تھا۔ یہ وائرس کمپیوٹر کے ڈیٹا کو نہیں اُڑاتا تھا اور نہ ہی سسٹ

شیئر کریں: WhatsApp

Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *