تحریر: فضل الرحمٰن
تاریخِ اسلام جب بھی عظیم سپہ سالاروں، شجاعت اور غیر معمولی عسکری حکمتِ عملی کا ذکر کرے گی تو سلطان صلاح الدین ایوبی کا نام ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ وہ محض ایک فاتح نہیں بلکہ بہادری، عدل، انسانیت اور اعلیٰ کردار کی روشن مثال تھے۔صلاح الدین ایوبی نے منتشر مسلم قوتوں کو متحد کیا اور 1187ء میں جنگِ حطین میں صلیبی افواج کو فیصلہ کن شکست دے کر بیت المقدس کی آزادی کی راہ ہموار کی۔ تقریباً 88 سال بعد بیت المقدس کی فتح ان کی عسکری بصیرت، ثابت قدمی اور غیر متزلزل عزم کا تاریخی ثبوت تھی۔ان کی عظمت صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ فتح کے بعد ان کے طرزِ عمل میں بھی نمایاں ہوئی۔ بیت المقدس پر قبضے کے بعد انہوں نے عمومی قتلِ عام کے بجائے رحم اور رواداری کی پالیسی اختیار کی، جس نے انہیں اپنے عہد کے ممتاز حکمرانوں میں شامل کیا۔
صلاح الدین ایوبی کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قوموں کی اصل طاقت اتحاد، نظم و ضبط، کردار اور مضبوط قیادت میں پوشیدہ ہے۔ وہ ایک ایسے سپہ سالار تھے جنہوں نے اپنی تلوار سے فتوحات حاصل کیں اور اپنے کردار سے تاریخ میں عزت کمائی۔صلاح الدین ایوبی کا نام آج بھی شجاعت، انصاف اور مسلم اتحاد کی ایک لازوال علامت ہے

Leave a Reply