dailyreformer.pk
November 5, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
بلوچستان سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی نقل مکانی پر گورنر کا اظہارِ تشویشبلوچستان میں امن و امان کا اعلیٰ سطحی جائزہ، سیف سٹی منصوبوں کے لیے فنڈز کی ہدایتبلوچستان کے 9 شہروں میں سیف سٹی منصوبوں کے لیے پنجاب کا تعاونکوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسمِ سرما کی پہلی بارشTender Notice: Chief Officer Municipal Corporation HubTender Notice: Manager Sheikh Zayed Al Nahyan Institute of CardiologyTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District PanjgurTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District Gwadarبلوچستان میں 17 مبینہ دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں صحافیوں کا یومِ سیاہ، تنخواہوں اور میڈیا دفاتر کی بندش پر احتجاجبلوچستان سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی نقل مکانی پر گورنر کا اظہارِ تشویشبلوچستان میں امن و امان کا اعلیٰ سطحی جائزہ، سیف سٹی منصوبوں کے لیے فنڈز کی ہدایتبلوچستان کے 9 شہروں میں سیف سٹی منصوبوں کے لیے پنجاب کا تعاونکوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسمِ سرما کی پہلی بارشTender Notice: Chief Officer Municipal Corporation HubTender Notice: Manager Sheikh Zayed Al Nahyan Institute of CardiologyTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District PanjgurTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District Gwadarبلوچستان میں 17 مبینہ دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں صحافیوں کا یومِ سیاہ، تنخواہوں اور میڈیا دفاتر کی بندش پر احتجاج

خون کے بہاؤ میں شامل پلاسٹک ذرات دل کی صحت کے لیے شدید خطرہ قرار

پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات انسانی خون کے ذریعے دل کی شریانوں تک پہنچ کر ہارٹ اٹیک کا سبب بن رہے ہیں۔

اٹلی کی ساپینزا یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی ایک حالیہ تحقیق میں یہ تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے کہ ہمارے ارد گرد موجود پلاسٹک کے ذرات خوراک، پانی اور ہوا کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر دل کو متاثر کر رہے ہیں۔

ماہرین کا اندازہ ہے کہ انسان ہر ہفتے ایک کریڈٹ کارڈ کے برابر پلاسٹک کھا رہا ہے۔

تحقیقی عمل کے دوران انجیو گرافی کروانے والے 6 افراد کے 3 گروپس بنائے گئے، جن میں ہارٹ اٹیک کے مریض، شریانوں کے سکڑاؤ کا شکار افراد اور صحت مند افراد شامل تھے۔

تحقیق کے دوران جدید لیبارٹری ٹیکنالوجی کے ذریعے خون کی نالیوں کا معائنہ کیا گیا تاکہ ان میں موجود پلاسٹک کے ذرات کی سطح کا اندازہ لگایا جا سکے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ہارٹ اٹیک کا سامنا کرنے والے 84 فیصد مریضوں کی شریانوں میں پلاسٹک کے ذرات موجود تھے۔ اسی طرح، شریانیں سکڑنے والے 40 فیصد اور بظاہر صحت مند نظر آنے والے 32 فیصد افراد کی شریانوں میں بھی یہ مضرِ صحت ذرات پائے گئے۔ ان میں پولی تھین پلاسٹک کی مقدار سب سے زیادہ تھی۔

تحقیق میں یہ بات واضح ہوئی کہ شریانوں میں جمع ہونے والا یہ مواد ہارٹ اٹیک، فالج اور اچانک موت کا باعث بن سکتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تمباکو نوشی اور فضائی آلودگی بھی ان پلاسٹک ذرات کو دل کی شریانوں میں جمع کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، جو انسانی صحت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

یہ تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ مائیکرو پلاسٹک اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین طبی خطرہ بن چکا ہے۔

2024 کی سابقہ رپورٹس بھی اس کی تائید کر چکی ہیں، لہذا پلاسٹک کے استعمال میں کمی لانا اور فضائی آلودگی پر قابو پانا اب زندگی بچانے کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *