dailyreformer.pk
November 5, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
بلوچستان سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی نقل مکانی پر گورنر کا اظہارِ تشویشبلوچستان میں امن و امان کا اعلیٰ سطحی جائزہ، سیف سٹی منصوبوں کے لیے فنڈز کی ہدایتبلوچستان کے 9 شہروں میں سیف سٹی منصوبوں کے لیے پنجاب کا تعاونکوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسمِ سرما کی پہلی بارشTender Notice: Chief Officer Municipal Corporation HubTender Notice: Manager Sheikh Zayed Al Nahyan Institute of CardiologyTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District PanjgurTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District Gwadarبلوچستان میں 17 مبینہ دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں صحافیوں کا یومِ سیاہ، تنخواہوں اور میڈیا دفاتر کی بندش پر احتجاجبلوچستان سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی نقل مکانی پر گورنر کا اظہارِ تشویشبلوچستان میں امن و امان کا اعلیٰ سطحی جائزہ، سیف سٹی منصوبوں کے لیے فنڈز کی ہدایتبلوچستان کے 9 شہروں میں سیف سٹی منصوبوں کے لیے پنجاب کا تعاونکوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسمِ سرما کی پہلی بارشTender Notice: Chief Officer Municipal Corporation HubTender Notice: Manager Sheikh Zayed Al Nahyan Institute of CardiologyTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District PanjgurTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District Gwadarبلوچستان میں 17 مبینہ دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں صحافیوں کا یومِ سیاہ، تنخواہوں اور میڈیا دفاتر کی بندش پر احتجاج

مٹاپا اور کمزور پٹھے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ ساڑھے تین گنا بڑھا دیتے ہیں، تحقیق

مٹاپا اور کمزور پٹھے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ ساڑھے تین گنا بڑھا دیتے ہیں، تحقیق

ایک نئی طویل المدتی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جسم میں زائد چربی اور پٹھوں کی کمزوری ایک ساتھ ہونے کی صورت میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ ساڑھے تین گنا تک بڑھ سکتا ہے۔

آسٹریلیا کی کرٹن یونیورسٹی کے محققین کی سربراہی میں ہونے والی اس تحقیق میں 4 لاکھ 80 ہزار بالغ افراد کی صحت کا 14سال تک جائزہ لیا گیا۔

تحقیق کے مطابق ایسے افراد جو مٹاپے کے ساتھ پٹھوں کی کمزوری کا بھی شکار تھے ان میں صرف موٹاپے کے شکار افراد کے مقابلے میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ 19 فی صد زیادہ پایا گیا جبکہ صرف کم عضلاتی کمیت رکھنے والے افراد کے مقابلے میں یہ خطرہ 91فی صد زیادہ تھا۔

ماہرین کے مطابق ٹائپ ٹو ذیابیطس ایک دائمی بیماری ہے، جو اعصاب، آنکھوں اور گردوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جبکہ دل کی بیماریوں اور کئی اقسام کے کینسر کے خطرے میں بھی اضافہ کرتی ہے۔

تحقیق کے مرکزی مصنف اور پی ایچ ڈی محقق ژونگ یانگ گوان نے کہا کہ نتائج اس عام تاثر کو چیلنج کرتے ہیں کہ ذیابیطس کا خطرہ صرف جسمانی وزن سے وابستہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ ذیابیطس کے خطرے کا اندازہ لگاتے وقت صرف وزن نہیں بلکہ پٹھوں کی طاقت اور ان کی مقدار کو بھی اہمیت دینا ضروری ہے۔ پٹھوں کو مضبوط اور صحت مند رکھنا، جسمانی وزن کو قابو میں رکھنے جتنا ہی اہم ہو سکتا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *