dailyreformer.pk
July 9, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
بلوچستان حملوں میں ہمسائیہ ملک کا ہاتھ ہے، دہشت گرد افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں، وزیراعظموزیراعظم سے کروشیا کے وزیر خارجہ کی ملاقات، تجارت سمیت کئی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاقپہلے ہی پتہ تھا معاہدہ نہیں ہوگا، ایران جنگ میں شامل ہونے کیلئے تیار ہیں، اسرائیلفٹبال ورلڈ کپ؛ مصر کے الزامات پر چیف ریفری آفیسر کا اہم بیان سامنے آگیا’’شاہ رُخ خان بڑے اسٹار ہیں لیکن اچھے اداکار نہیں‘‘آسٹریلیا میں سمندری حیات کی ہلاکتوں کا معمہ حلکانگو میں ایبولا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 600 تک پہنچ گئیوی پی این ایپس استعمال کرنے والوں کے لیے بُری خبر!بلوچستان میں حملے بھارت کرارہا ہے، 4 روز میں 42 اہلکار و شہری شہید 54 دہشت گرد مارے گئے، پاک فوجژوب؛ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے نوجوان جاں بحقبلوچستان حملوں میں ہمسائیہ ملک کا ہاتھ ہے، دہشت گرد افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں، وزیراعظموزیراعظم سے کروشیا کے وزیر خارجہ کی ملاقات، تجارت سمیت کئی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاقپہلے ہی پتہ تھا معاہدہ نہیں ہوگا، ایران جنگ میں شامل ہونے کیلئے تیار ہیں، اسرائیلفٹبال ورلڈ کپ؛ مصر کے الزامات پر چیف ریفری آفیسر کا اہم بیان سامنے آگیا’’شاہ رُخ خان بڑے اسٹار ہیں لیکن اچھے اداکار نہیں‘‘آسٹریلیا میں سمندری حیات کی ہلاکتوں کا معمہ حلکانگو میں ایبولا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 600 تک پہنچ گئیوی پی این ایپس استعمال کرنے والوں کے لیے بُری خبر!بلوچستان میں حملے بھارت کرارہا ہے، 4 روز میں 42 اہلکار و شہری شہید 54 دہشت گرد مارے گئے، پاک فوجژوب؛ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے نوجوان جاں بحق

آسٹریلیا میں سمندری حیات کی ہلاکتوں کا معمہ حل

آسٹریلیا میں سمندری حیات کی ہلاکتوں کا معمہ حل

آسٹریلیا کی ریاست جنوبی آسٹریلیا میں گزشتہ سال لاکھوں سمندری جانداروں کی ہلاکت کا سبب بننے والی زہریلی الگئی کو اب تک کی اپنی نوع کی سب سے زیادہ زہریلی الگئی قرار دیا گیا ہے۔

تحقیق کے مطابق مارچ 2025 میں جنوبی آسٹریلیا کے ساحلوں پر ایک پراسرار جھاگ نمودار ہوا تھا جس کے ساتھ ہی ہزاروں مچھلیاں ہلاک ہونا شروع ہو گئیں تھیں جبکہ کئی سرفرز بھی کھانسی، گلے کی سوزش اور دھندلی نظر جیسی علامات کا شکار ہوگئے تھے۔

یہ جھاگ ویٹپنگا بیچ کے وسیع ساحلی علاقے پر پھیل گیا تھا، جس کے باعث بڑی تعداد میں سمندری گھوڑے، مچھلیاں اور آکٹوپس ہلاک ہو گئے تھے۔

ماہرین کے مطابق کئی ماہ تک جاری رہنے والی اس الگئی کی افزائش نے جنوبی آسٹریلیا کے ماحول، معیشت اور عوامی صحت پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے۔

بعد ازاں محققین نے دریافت کیا کہ یہ تباہی کیرینا کرِسٹاٹا نامی خردبینی الگئی سے خارج ہونے والے اعصابی زہریلے مادوں کے باعث ہوئی۔

حال ہی میں جرنل نیچر ایکولوجی اینڈ ایوولُوشن میں شائع ہونے والی نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کیرینا کرِسٹاٹا کے زہریلے اثرات اب تک زیرِ مطالعہ آنے والی تمام نقصان دہ الگئی سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں۔

تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے لیبارٹری میں اگائی گئی کیرینا کرِسٹاٹا کی اقسام پر تجربات کیے جن سے ثابت ہوا کہ یہی غیر معمولی زہریلا پن گزشتہ سال ریڑھ کی ہڈی نہ رکھنے والے سمندری جانوروں، مچھلیوں، سمندری ممالیہ جانوروں اور پرندوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکت کی بنیادی وجہ تھا۔

شیئر کریں: WhatsApp

newupload

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *