dailyreformer.pk
September 4, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
جون 2027ء تک پیٹرول کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے کا ہدف مقررملک میں مہنگائی کی رفتار بڑھ گئی؛ مزید 17 اشیا کی قیمتوں میں اضافہحکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات 7 ستمبر کو ہوں گےفلپائن کی عدالت نے نائب صدر کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیےجرمنی نے یوکرین کیلئے ڈرونز کی پیداوار میں اضافہ کردیاامریکا کو عرب ممالک اور ایرانی خودمختاری کی کوئی پروا نہیں، عباس عراقچیکوئٹہ: پہاڑوں کے حصار میں بسا خوبصورت شہرعلاقائی اخبارات کی اہمیت: معاشرے کی آواز اور تاریخ کا محفوظ ریکارڈایف آئی اے کا ملک گیر کریک ڈاؤن؛ انسانی اسمگلنگ میں ملوث 24 ملزمان گرفتارپنجاب میں کرپشن کے خلاف گرینڈ آپریشن؛ خفیہ سیل قائم ، گرفتاریاں شروعجون 2027ء تک پیٹرول کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے کا ہدف مقررملک میں مہنگائی کی رفتار بڑھ گئی؛ مزید 17 اشیا کی قیمتوں میں اضافہحکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات 7 ستمبر کو ہوں گےفلپائن کی عدالت نے نائب صدر کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیےجرمنی نے یوکرین کیلئے ڈرونز کی پیداوار میں اضافہ کردیاامریکا کو عرب ممالک اور ایرانی خودمختاری کی کوئی پروا نہیں، عباس عراقچیکوئٹہ: پہاڑوں کے حصار میں بسا خوبصورت شہرعلاقائی اخبارات کی اہمیت: معاشرے کی آواز اور تاریخ کا محفوظ ریکارڈایف آئی اے کا ملک گیر کریک ڈاؤن؛ انسانی اسمگلنگ میں ملوث 24 ملزمان گرفتارپنجاب میں کرپشن کے خلاف گرینڈ آپریشن؛ خفیہ سیل قائم ، گرفتاریاں شروع

ردِ عمل کے بعد میٹا نے متنازع اے آئی فیچر واپس لے لیا

ردِ عمل کے بعد میٹا نے متنازع اے آئی فیچر واپس لے لیا

ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے عوامی تنقید اور رازداری سے متعلق خدشات کے بعد اپنا متنازع مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی تصویر سازی کا فیچر میوز امیج لانچ ہونے کے چند ہی دن بعد واپس لے لیا۔

یہ فیچر گزشتہ ہفتے انسٹاگرام اور فیس بک کی مالک کمپنی میٹا نے اپنے اے آئی اسسٹنٹ میٹا اے آئی کے ذریعے متعارف کرایا تھا۔ یہ کمپنی کا پہلا ایسا امیج جنریشن ماڈل تھا جو صارفین کے لیے دستیاب کیا گیا تھا۔

دیگر اے آئی امیج جنریٹرز کے برعکس میوز امیج عوامی (پبلک) انسٹاگرام اکاؤنٹس پر موجود تصاویر کو بطور حوالہ استعمال کرکے نئی تصاویر تیار کرتا تھا، جس پر صارفین نے رازداری اور ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق شدید خدشات کا اظہار کیا۔

تنقید کے بعد میٹا نے جمعہ کے روز اس فیچر کو واپس لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کا مقصد ایک مفید تخلیقی ٹول فراہم کرنا اور صارفین کو یہ اختیار دینا تھا کہ آیا ان کے عوامی مواد کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ کمپنی نے صارفین کی آراء سنی ہیں اور محسوس کیا کہ یہ فیچر ان کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکا، اس لیے اسے اب دستیاب نہیں رکھا جا رہا۔

شیئر کریں: WhatsApp

Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *