dailyreformer.pk
November 5, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
Tender Notice: Chief Officer Municipal Corporation HubTender Notice: Manager Sheikh Zayed Al Nahyan Institute of CardiologyTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District PanjgurTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District Gwadarبلوچستان میں 17 مبینہ دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں صحافیوں کا یومِ سیاہ، تنخواہوں اور میڈیا دفاتر کی بندش پر احتجاجبلوچستان اور سندھ کے لیے موسمِ سرما میں گیس کی فراہمی کا شیڈول جاریکوئٹہ بائی پاس کا 86 فیصد اور آواران ہوشاب شاہراہ کا 64 فیصد کام مکملبلوچستان کے ڈیم منصوبوں کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ، سینیٹ کمیٹی کا اظہارِ تشویشبلوچستان میں امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس، وزیراعلیٰ کی اہم ہدایاتTender Notice: Chief Officer Municipal Corporation HubTender Notice: Manager Sheikh Zayed Al Nahyan Institute of CardiologyTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District PanjgurTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District Gwadarبلوچستان میں 17 مبینہ دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں صحافیوں کا یومِ سیاہ، تنخواہوں اور میڈیا دفاتر کی بندش پر احتجاجبلوچستان اور سندھ کے لیے موسمِ سرما میں گیس کی فراہمی کا شیڈول جاریکوئٹہ بائی پاس کا 86 فیصد اور آواران ہوشاب شاہراہ کا 64 فیصد کام مکملبلوچستان کے ڈیم منصوبوں کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ، سینیٹ کمیٹی کا اظہارِ تشویشبلوچستان میں امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس، وزیراعلیٰ کی اہم ہدایات

بلوچستان کی نئی انتظامی تشکیل — چار صوبوں کا تصور

تحریر: فضل الرحمان
بلوچستان صرف رقبے میں ہی پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ نہیں، بلکہ وسائل، جغرافیہ اور ثقافتی تنوع کے اعتبار سے بھی ایک منفرد خطہ ہے۔ اتنے وسیع علاقے کو ایک ہی انتظامی ڈھانچے کے ذریعے مؤثر انداز میں چلانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ اسی لیے وقت آگیا ہے کہ ہم بلوچستان کے انتظامی مستقبل کے بارے میں روایتی سوچ سے آگے بڑھ کر نئے امکانات پر غور کریں۔
میری ذاتی نظریاتی تجویز ہے کہ بلوچستان کو مستقبل میں چار نئے صوبوں—سراوان، جھلّاوان، آواران اور لسبیلہ میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ہر صوبے کا اپنا گورنر، انتظامی ادارے اور مقامی حکومتی ڈھانچہ ہو، تاکہ فیصلے عوام کے قریب ہوں اور ترقیاتی عمل زیادہ تیز اور مؤثر بنایا جا سکے۔
جس طرح انتظامی بہتری کے لیے سندھ کو دو اور پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی بحث کی جا سکتی ہے، اسی اصول کے تحت بلوچستان میں بھی انتظامی تقسیم پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ اس کا مقصد بلوچستان کو کمزور کرنا نہیں بلکہ اس کے ہر خطے کو مضبوط، بااختیار اور ترقی یافتہ بنانا ہونا چاہیے۔
اگر ایک عام شہری کو بنیادی سہولیات، تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف کے لیے سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرنا پڑے تو ہمیں اپنے انتظامی نظام پر دوبارہ سوچنا ہوگا۔ چھوٹے اور مؤثر انتظامی یونٹس حکومت کو عوام کے قریب لا سکتے ہیں اور پسماندہ علاقوں میں ترقی کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں۔
یہ کوئی حتمی سیاسی منصوبہ نہیں بلکہ میری ذاتی تھیوری اور ایک فکری تجویز ہے۔ شاید وقت آگیا ہے کہ ہم اس سوال پر کھل کر بحث کریں: کیا بلوچستان کی وسیع سرزمین کو بہتر انتظام، تیز ترقی اور عوامی خوشحالی کے لیے نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت ہے؟

شیئر کریں: WhatsApp

Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *