dailyreformer.pk
November 5, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
بلوچستان سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی نقل مکانی پر گورنر کا اظہارِ تشویشبلوچستان میں امن و امان کا اعلیٰ سطحی جائزہ، سیف سٹی منصوبوں کے لیے فنڈز کی ہدایتبلوچستان کے 9 شہروں میں سیف سٹی منصوبوں کے لیے پنجاب کا تعاونکوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسمِ سرما کی پہلی بارشTender Notice: Chief Officer Municipal Corporation HubTender Notice: Manager Sheikh Zayed Al Nahyan Institute of CardiologyTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District PanjgurTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District Gwadarبلوچستان میں 17 مبینہ دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں صحافیوں کا یومِ سیاہ، تنخواہوں اور میڈیا دفاتر کی بندش پر احتجاجبلوچستان سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی نقل مکانی پر گورنر کا اظہارِ تشویشبلوچستان میں امن و امان کا اعلیٰ سطحی جائزہ، سیف سٹی منصوبوں کے لیے فنڈز کی ہدایتبلوچستان کے 9 شہروں میں سیف سٹی منصوبوں کے لیے پنجاب کا تعاونکوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسمِ سرما کی پہلی بارشTender Notice: Chief Officer Municipal Corporation HubTender Notice: Manager Sheikh Zayed Al Nahyan Institute of CardiologyTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District PanjgurTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District Gwadarبلوچستان میں 17 مبینہ دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں صحافیوں کا یومِ سیاہ، تنخواہوں اور میڈیا دفاتر کی بندش پر احتجاج

بغیر فریج کے محفوظ رہنے والی پہلی ویکسین کے انسانی تجربات کامیاب

بغیر فریج کے محفوظ رہنے والی پہلی ویکسین کے انسانی تجربات کامیاب

سائنس دانوں نے ایسی نئی ویکسین کے پہلے انسانی تجربات میں کامیابی حاصل کر لی ہے جو فریج کے بغیر بھی محفوظ رہ سکتی ہے اور دنیا بھر میں ویکسین کی ترسیل کو آسان بنا سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایس پی وی ایکس 02 نامی ٹیٹنس اور ڈفتھیریا بوسٹر ویکسین کے پہلے مرحلے (فیز ون) کے کلینیکل ٹرائل میں ثابت ہوا کہ یہ ویکسین 30 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت میں کم از کم 24 ماہ تک مؤثر اور قابلِ استعمال رہ سکتی ہے۔ اس ویکسین کی تیاری میں اسٹیبلیوا ایکس ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔

اس وقت دنیا کی زیادہ تر ویکسینز کو استعمال تک مخصوص درجہ حرارت پر، عموماً مسلسل ٹھنڈا رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس نظام کو کولڈ چین کہا جاتا ہے، جو گرم علاقوں، دور دراز مقامات اور محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں ویکسین پہنچانے میں بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔

زیادہ گرمی یا منجمد درجہ حرارت ویکسین کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جس سے اضافی اخراجات، نقل و حمل کے مسائل اور ویکسین ضائع ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خاص طور پر کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں بجلی کی کمی، کمزور انفراسٹرکچر اور دشوار جغرافیائی حالات ویکسین کی فراہمی کو مشکل بناتے ہیں۔

فیز ون انسانی آزمائش میں صحت مند بالغ افراد کو شامل کیا گیا، جنہیں یا تو ایس پی وی ایکس 02 ویکسین دی گئی یا موجودہ منظور شدہ ویکسین سے موازنہ کیا گیا۔ محققین کے مطابق ایس پی وی ایکس 02 لینے والے افراد میں مدافعتی ردعمل موجودہ ویکسینز کے برابر رہا جبکہ کسی سنگین مضر اثر کی نشاندہی نہیں ہوئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مزید مراحل میں یہ ویکسین کامیاب ثابت ہوتی ہے تو یہ دنیا کے ایسے علاقوں تک ویکسین پہنچانے میں مدد دے سکتی ہے جہاں کولڈ اسٹوریج کی سہولیات محدود ہیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *