صنعا: یمن میں جنگ نے نیا اور خطرناک رخ اختیار کرلیا، سعودی عرب نے ساحلی شہر موخا کے ہوائی اڈے پر دو فضائی حملے کیے، جبکہ حوثی جنگجو پیش قدمی کرتے ہوئے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ باب المندب کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
حوثی میڈیا کے مطابق سعودی طیاروں نے موخا ایئرپورٹ کو دو مرتبہ نشانہ بنایا، تاہم حملوں میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کی فوری تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔
موخا پر حوثیوں کے قبضے کے بعد بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں لڑائی مزید شدت اختیار کرگئی ہے۔ یمنی حکومتی ذرائع کے مطابق حوثی جنگجو اب ذباب تک پہنچ چکے ہیں، جو باب المندب کے انتہائی قریب اور اسٹریٹجک جزیرے پریم کے سامنے واقع ہے۔
ذباب اور پریم پر کنٹرول کو باب المندب پر اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ یہ آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور ایشیا و یورپ کے درمیان عالمی تجارت کی ایک نہایت اہم بحری شاہراہ ہے۔
حوثیوں کی اس تیز رفتار پیش قدمی نے عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کردیے ہیں۔ اگر باب المندب میں کشیدگی مزید بڑھی تو بحیرہ احمر سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی آمدورفت متاثر ہونے کے ساتھ عالمی سپلائی چین اور خطے کی سکیورٹی پر بھی شدید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

Leave a Reply