dailyreformer.pk
November 5, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
بلوچستان سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی نقل مکانی پر گورنر کا اظہارِ تشویشبلوچستان میں امن و امان کا اعلیٰ سطحی جائزہ، سیف سٹی منصوبوں کے لیے فنڈز کی ہدایتبلوچستان کے 9 شہروں میں سیف سٹی منصوبوں کے لیے پنجاب کا تعاونکوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسمِ سرما کی پہلی بارشTender Notice: Chief Officer Municipal Corporation HubTender Notice: Manager Sheikh Zayed Al Nahyan Institute of CardiologyTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District PanjgurTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District Gwadarبلوچستان میں 17 مبینہ دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں صحافیوں کا یومِ سیاہ، تنخواہوں اور میڈیا دفاتر کی بندش پر احتجاجبلوچستان سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی نقل مکانی پر گورنر کا اظہارِ تشویشبلوچستان میں امن و امان کا اعلیٰ سطحی جائزہ، سیف سٹی منصوبوں کے لیے فنڈز کی ہدایتبلوچستان کے 9 شہروں میں سیف سٹی منصوبوں کے لیے پنجاب کا تعاونکوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسمِ سرما کی پہلی بارشTender Notice: Chief Officer Municipal Corporation HubTender Notice: Manager Sheikh Zayed Al Nahyan Institute of CardiologyTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District PanjgurTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District Gwadarبلوچستان میں 17 مبینہ دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں صحافیوں کا یومِ سیاہ، تنخواہوں اور میڈیا دفاتر کی بندش پر احتجاج

شمالی کوریا کی سرحد کے قریب نایاب ’’لیوپرڈ لِلی‘‘ دریافت

شمالی کوریا کی سرحد کے قریب نایاب ’’لیوپرڈ لِلی‘‘ دریافت

شمالی کوریا کی سرحد کے قریب ایک پہاڑی علاقے میں نایاب پھول لیوپرڈ لِلی (Leopard Lily) دریافت ہوا ہے۔ یہ دریافت اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کہ اس پھول کی موجودگی اب تک معلوم جغرافیائی حد سے مزید شمال میں سامنے آئی ہے۔

جنوبی کوریا کے نیشنل آربوریٹم کے ماہرین نے پھول کی دریافت کو ریکارڈ کیا۔ ماہرین کے مطابق اس دریافت سے پودے کی قدرتی پھیلاؤ کی شمالی حد کے بارے میں نئی معلومات مل سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ شمال میں موجود علاقوں تک جنوبی کوریائی محققین کی رسائی انتہائی محدود ہے، اس لیے شمالی کوریا میں ہی پھول کی موجودگی اور اس کے پھیلاؤ کا جائزہ لینا مفید ہوگا۔

ماہرین کے مطابق پودوں کی جغرافیائی حدود کا تعین حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے اہم ہے۔ موسمیاتی تبدیلی بھی پودوں کے قدرتی مسکن اور ان کی پھیلاؤ کی حدود کو تبدیل کر رہی ہے، اس لیے ایسی دریافتیں مستقبل میں تحفظِ ماحول کی منصوبہ بندی میں مدد دے سکتی ہیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *