dailyreformer.pk
September 4, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
امریکا کو عرب ممالک اور ایرانی خودمختاری کی کوئی پروا نہیں، عباس عراقچیکوئٹہ: پہاڑوں کے حصار میں بسا خوبصورت شہرعلاقائی اخبارات کی اہمیت: معاشرے کی آواز اور تاریخ کا محفوظ ریکارڈایف آئی اے کا ملک گیر کریک ڈاؤن؛ انسانی اسمگلنگ میں ملوث 24 ملزمان گرفتارپنجاب میں کرپشن کے خلاف گرینڈ آپریشن؛ خفیہ سیل قائم ، گرفتاریاں شروعآن لائن فراڈ کال سینٹر کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن؛ 28 مبینہ ملزمان گرفتارزائد لاگت کے سبب چاول، چینی، کاٹن، پیاز، تل، آلو کی برآمدات کم ہوگئیں، سینیٹ قائمہ کمیٹیامریکا کا ایران سے تجارت یا مدد کرنے والے ممالک کو سخت پیغام، پابندیاں لگانے کی دھمکیقطر کی کویت پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کیخلاف قرار دے دیابلوچستان کی نئی انتظامی تشکیل — چار صوبوں کا تصورامریکا کو عرب ممالک اور ایرانی خودمختاری کی کوئی پروا نہیں، عباس عراقچیکوئٹہ: پہاڑوں کے حصار میں بسا خوبصورت شہرعلاقائی اخبارات کی اہمیت: معاشرے کی آواز اور تاریخ کا محفوظ ریکارڈایف آئی اے کا ملک گیر کریک ڈاؤن؛ انسانی اسمگلنگ میں ملوث 24 ملزمان گرفتارپنجاب میں کرپشن کے خلاف گرینڈ آپریشن؛ خفیہ سیل قائم ، گرفتاریاں شروعآن لائن فراڈ کال سینٹر کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن؛ 28 مبینہ ملزمان گرفتارزائد لاگت کے سبب چاول، چینی، کاٹن، پیاز، تل، آلو کی برآمدات کم ہوگئیں، سینیٹ قائمہ کمیٹیامریکا کا ایران سے تجارت یا مدد کرنے والے ممالک کو سخت پیغام، پابندیاں لگانے کی دھمکیقطر کی کویت پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کیخلاف قرار دے دیابلوچستان کی نئی انتظامی تشکیل — چار صوبوں کا تصور

شمالی کوریا کی سرحد کے قریب نایاب ’’لیوپرڈ لِلی‘‘ دریافت

شمالی کوریا کی سرحد کے قریب نایاب ’’لیوپرڈ لِلی‘‘ دریافت

شمالی کوریا کی سرحد کے قریب ایک پہاڑی علاقے میں نایاب پھول لیوپرڈ لِلی (Leopard Lily) دریافت ہوا ہے۔ یہ دریافت اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کہ اس پھول کی موجودگی اب تک معلوم جغرافیائی حد سے مزید شمال میں سامنے آئی ہے۔

جنوبی کوریا کے نیشنل آربوریٹم کے ماہرین نے پھول کی دریافت کو ریکارڈ کیا۔ ماہرین کے مطابق اس دریافت سے پودے کی قدرتی پھیلاؤ کی شمالی حد کے بارے میں نئی معلومات مل سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ شمال میں موجود علاقوں تک جنوبی کوریائی محققین کی رسائی انتہائی محدود ہے، اس لیے شمالی کوریا میں ہی پھول کی موجودگی اور اس کے پھیلاؤ کا جائزہ لینا مفید ہوگا۔

ماہرین کے مطابق پودوں کی جغرافیائی حدود کا تعین حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے اہم ہے۔ موسمیاتی تبدیلی بھی پودوں کے قدرتی مسکن اور ان کی پھیلاؤ کی حدود کو تبدیل کر رہی ہے، اس لیے ایسی دریافتیں مستقبل میں تحفظِ ماحول کی منصوبہ بندی میں مدد دے سکتی ہیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *