dailyreformer.pk
November 4, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
بلوچستان میں 17 مبینہ دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں صحافیوں کا یومِ سیاہ، تنخواہوں اور میڈیا دفاتر کی بندش پر احتجاجبلوچستان اور سندھ کے لیے موسمِ سرما میں گیس کی فراہمی کا شیڈول جاریکوئٹہ بائی پاس کا 86 فیصد اور آواران ہوشاب شاہراہ کا 64 فیصد کام مکملبلوچستان کے ڈیم منصوبوں کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ، سینیٹ کمیٹی کا اظہارِ تشویشبلوچستان میں امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس، وزیراعلیٰ کی اہم ہدایاتبلوچستان کے 9 شہروں میں سیف سٹی منصوبوں کو جدید بنانے کا فیصلہبلوچستان میں اکتوبر کے دوران 51 کھلی کچہریاں، 686 عوامی شکایات موصولبلوچستان کے 31 اضلاع میں 22 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدفبلوچستان میں پائیدار ترقی کے 4 ہزار 63 منصوبوں کی منظوری، 2 ہزار 181 زیرِ تکمیلبلوچستان میں 17 مبینہ دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں صحافیوں کا یومِ سیاہ، تنخواہوں اور میڈیا دفاتر کی بندش پر احتجاجبلوچستان اور سندھ کے لیے موسمِ سرما میں گیس کی فراہمی کا شیڈول جاریکوئٹہ بائی پاس کا 86 فیصد اور آواران ہوشاب شاہراہ کا 64 فیصد کام مکملبلوچستان کے ڈیم منصوبوں کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ، سینیٹ کمیٹی کا اظہارِ تشویشبلوچستان میں امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس، وزیراعلیٰ کی اہم ہدایاتبلوچستان کے 9 شہروں میں سیف سٹی منصوبوں کو جدید بنانے کا فیصلہبلوچستان میں اکتوبر کے دوران 51 کھلی کچہریاں، 686 عوامی شکایات موصولبلوچستان کے 31 اضلاع میں 22 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدفبلوچستان میں پائیدار ترقی کے 4 ہزار 63 منصوبوں کی منظوری، 2 ہزار 181 زیرِ تکمیل

کیا آپ جانتے ہیں دنیا کا پہلا کمپیوٹر وائرس دو پاکستانی بھائیوں نے تیار کیا تھا

کیا آپ جانتے ہیں دنیا کا پہلا کمپیوٹر وائرس دو پاکستانی بھائیوں نے تیار کیا تھا

یہ بات کافی سارے پاکستانیوں کیلئے حیرانی کا باعث ہوگی کہ دنیا کا پہلا کمپیوٹر وائرس پاکستانی شہریوں نے تیار کیا تھا۔

جی ہاں، کمپیوٹر وائرس جو معروف ٹیک کمپنیوں، ماہرین یہاں تک کہ کبھی کبھی قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن جاتا ہے، اُسے سب سے پہلے دو پاکستانی بھائیوں نے تیار کیا تھا۔

دنیا کا پہلا پی سی بوٹ سیکٹر وائرس، جس کا نام “برین” ہے، جنوری 1986 میں لاہور میں دو بھائیوں باسط فاروق علوی اور امجد فاروق علوی نے بنایا تھا۔

بھائیوں نے یہ وائرس دراصل ان کے میڈیکل سافٹ ویئر کی غیر قانونی کاپی (پائریسی) کو روکنے کے لیے ڈیزائن کیا تھا۔

یہ کمپیوٹر وائرس نقصان دہ ہونے کے بجائے دفاعی پہلو رکھتا تھا۔ یہ وائرس 5.25 انچ فلاپی ڈسک کے ذریعے اُس وقت پھیلتا تھا جب سافٹ ویئر کی غیر مجاز کاپیاں بنائی جاتی تھیں۔

“برین” وائرس بھائیوں کی دکان کے ایڈریس اور فون نمبرز کے ساتھ ایک پوشیدہ کاپی رائٹ پیغام پر مشتمل ہوتا تھا۔ یہ وائرس کمپیوٹر کے ڈیٹا کو نہیں اُڑاتا تھا اور نہ ہی سسٹ

شیئر کریں: WhatsApp

Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *