بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جشنِ آزادی کے موقع پر اگرچہ چند شاہراہوں کو سرکاری سطح پر برقی قمقموں اور روشنیوں سے سجایا گیا ہے، تاہم غیر سرکاری سطح پر تیاریوں کا فقدان نمایاں ہے۔ شہر کی مجموعی فضا مایوس کن دکھائی دیتی ہے، خصوصاً مرکزی بازاروں میں جہاں ماضی میں اس موقع پر خاصی رونق ہوا کرتی تھی۔شہر کے وسط میں واقع مشہور پھول گلی سمیت بیشتر دکانوں پر نہ پاکستانی پرچم دستیاب ہیں، نہ جھنڈیاں اور نہ ہی یومِ آزادی سے متعلق بیجز فروخت کیے جا رہے ہیں۔دکانداروں کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران یومِ آزادی کے موقع پر قومی پرچم اور جھنڈے فروخت کرنے والے بعض تاجروں پر حملے ہوئے، جن میں قیمتی جانوں کا ضیاع بھی ہوا۔ اس تلخ ماضی کے باعث دکانداروں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ اب اس کاروبار سے گریز کر رہے ہیں۔دوسری جانب والدین نے شکوہ کیا کہ اسکولوں میں یومِ آزادی کی تقریبات کے لیے بچوں سے جھنڈیاں اور سبز و سفید غبارے لانے کو کہا گیا، مگر کئی روز تلاش کے باوجود یہ اشیاء عام بازاروں میں دستیاب نہ ہو سکیں۔ بالآخر بعض والدین کو یہ سامان چلتن مارکیٹ کینٹ اور ملینیم مال کی چند مخصوص دکانوں سے حاصل کرنا پڑا۔یہ صورتحال اس امر کی عکاس ہے کہ صوبے میں قومی دن کے موقع پر قومی علامات کی خرید و فروخت اور ان کے اظہار سے گریز کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اربابِ اختیار اس خوف، بے اعتمادی اور بے رغبتی کے اسباب کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور ایسے مؤثر اقدامات کریں جن سے عوام میں اعتماد، قومی یکجہتی اور حب الوطنی کے جذبے کو مزید فروغ مل سکے۔
*کوئٹہ میں جشنِ آزادی کی رونقیں ماند، خوف کے باعث قومی پرچم اور جھنڈوں کی فروخت نہ ہونے کے برابر۔

Leave a Reply