dailyreformer.pk
September 5, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
خضدار میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 3.2 ریکارڈبلوچستان کے عوام کا امن، خوش حالی ریاست کی کوششوں کا مرکزی محور ہے، فیلڈ مارشلکوئٹہ سے اندرون ملک کے لیے ٹرین سروس دو روز کے لیے معطلگل پلازہ آتشزدگی کیس کا چالان عدالت میں جمع، تنویر پاستا مرکزی ملزم قرار، سرکاری اداروں کو کلین چٹمحسن نقوی معاملے کی حساسیت کو سمجھیں، سندھ کی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ناصر شاہجذباتی نہ ہوں، انتظامی یونٹ بنیں گے، کوئی فرد، سیاسی جماعت اور نمائندہ روک نہیں سکتا، محسن نقویٹینڈر کے لیے نوٹس: ڈپٹی ڈائریکٹر، زراعت (آن فارم واٹر مینجمنٹ)، ضلع بارکھاناطلاع عام:بلوچستان ہیلتھ کارڈ کے مریض سندھ کا سفر فی الحال مؤخر کریںمیجر جنرل فیصل نصیر تین سال کے لیے نیکٹا کے کوآرڈینیٹر مقرر نوٹیفیکشن جاریآپریشن ردالفتنہ 3؛ کچھی میں سیکیورٹی فورسز نے حملہ ناکام بنا دیا، کئی دہشتگرد ہلاکخضدار میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 3.2 ریکارڈبلوچستان کے عوام کا امن، خوش حالی ریاست کی کوششوں کا مرکزی محور ہے، فیلڈ مارشلکوئٹہ سے اندرون ملک کے لیے ٹرین سروس دو روز کے لیے معطلگل پلازہ آتشزدگی کیس کا چالان عدالت میں جمع، تنویر پاستا مرکزی ملزم قرار، سرکاری اداروں کو کلین چٹمحسن نقوی معاملے کی حساسیت کو سمجھیں، سندھ کی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ناصر شاہجذباتی نہ ہوں، انتظامی یونٹ بنیں گے، کوئی فرد، سیاسی جماعت اور نمائندہ روک نہیں سکتا، محسن نقویٹینڈر کے لیے نوٹس: ڈپٹی ڈائریکٹر، زراعت (آن فارم واٹر مینجمنٹ)، ضلع بارکھاناطلاع عام:بلوچستان ہیلتھ کارڈ کے مریض سندھ کا سفر فی الحال مؤخر کریںمیجر جنرل فیصل نصیر تین سال کے لیے نیکٹا کے کوآرڈینیٹر مقرر نوٹیفیکشن جاریآپریشن ردالفتنہ 3؛ کچھی میں سیکیورٹی فورسز نے حملہ ناکام بنا دیا، کئی دہشتگرد ہلاک

جذباتی نہ ہوں، انتظامی یونٹ بنیں گے، کوئی فرد، سیاسی جماعت اور نمائندہ روک نہیں سکتا، محسن نقوی

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ عہدہ رہے نہ رہے نئے صوبوں کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، صوبہ اسلام آباد کا سب سے بڑا حامی ہوں، انتظامی یونٹ بن کر رہیں گے، نہ کوئی فرد واحد، نہ کوئی سیاسی جماعت اور نہ ہی نمائندے روک سکتے ہیں، اگر یہ عوام کے دل کی آواز ہے تو یہ ہو کر رہے گی۔لاہور میں ’قومی پالیسی مکالمہ‘ کے عنوان سے جاری تقریب میں خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ 79سال بعد بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرپا رہے، نظام کو ری سیٹ کرنا ضروری ہے، ہم نے اپنے ملک کے نظام کو دیکھنا ہے اور ہمیں واضح ہونا چاہیے کہ نظام کو ری سیٹ کرنے کی بات کا اصل مقصد کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ نظام کو ری سیٹ کرنے کی بات کی مختلف تشریحات کی گئیں، بعض لوگوں نے نظام کی ری سیٹنگ کو موجودہ حکومت سے جوڑا، بعض لوگوں نے نظام کی ری سیٹنگ کو موجودہ سیاسی بندوبست سے تعبیر کیا لیکن نظام کو ری سیٹ کرنے کی بات کسی ایک حکومت یا سیاسی جماعت کی طرف اشارہ نہیں تھی۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بھی اپنے نظام کا جائزہ لینا ہوگا، ہمارا مقصد حکومت یا کسی سیاسی جماعت کو تبدیل کرنا نہیں، ہمارا مقصد نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنا ہے، 79 سال میں بہت سے منصوبے بنے لیکن عوام کو مطلوبہ نتائج نہیں مل سکے، تعلیم، صحت، صاف پانی اور صفائی بنیادی سہولیات ہر شہری کو ملنی چاہئیں، نظام میں بہتری اور بہتر ڈیلیوری سے عوام کے مسائل حل ہوں گے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ  پاکستان کے ہر شہری کو این ایف سی کا حق ملنا چاہیے،  اسلام آباد کے شہریوں کو این ایف سی میں کوئی حصہ نہیں ملتا، اسلام آباد کا نظام سی ڈی اے اپنی زمینیں فروخت کرکے چلا رہا ہے، اسلام آباد واحد شہر ہے جسے پاکستان کے کسی بجٹ سے ایک پیسہ بھی نہیں ملتا، کوئی نیا صوبہ بننا ہے تو اسلام آباد کو بھی صوبے کا درجہ ملنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کو صوبہ بنانے کے مطالبے پر سب کو مل کر آواز اٹھانی چاہیے، انتظامی حدود کی ازسرنو تشکیل کے معاملے پر پیچھے نہیں ہٹوں گا، نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں، اس معاملے پر سیاستدانوں سے زیادہ عوام کی رائے اہم ہے، عوام کی مرضی کے فیصلے سے کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، عوام کی منظوری کے بغیر نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا کوئی سوال نہیں، کیا ایک بیوروکریٹ سات یا چودہ کروڑ آبادی کے تمام فیصلے کر سکتا ہے؟  ایک شہر میں بیٹھ کر اتنی بڑی آبادی کا پورا نظام چلانا ممکن نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کیا بلوچستان میں کوئٹہ، کے پی کے میں پشاور ، پنجاب میں لاہور اور سندھ میں کراچی جیسا کوئی شہر ہے؟ میرے خیال سے جو مئیر ہوتا ہے، وہ عام آدمی کے مسائل زیادہ بہتر جانتا ہے، میں اب اس سے پیچھے نہیں ہٹنے والا، نئے مئیر تو آئیں گے، اگر عوام کی بہتری کے لیے نئے انتظامی یونٹس ضروری ہیں اور عوام بھی یہی چاہتی ہے تو پھر اس میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبے بنانے کا کام آئین کے اندر رہ کر کرنا ہے۔ نئے انتظامی یونٹس بنانے یا نہ بنانے کا فیصلہ کسی حکومت یا جماعت کو نہیں بلکہ عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے۔ اگر پاکستان کے عوام چاہتے ہیں کہ نئے انتظامی یونٹس بنیں تو وہ ہر صورت بننے چاہییں، لیکن اگر عوام نہیں چاہتی تو یہ یونٹس نہیں بننے چاہییں، انتظامی یونٹ بن کر رہیں گے، نہ کوئی فرد واحد، نہ کوئی سیاسی جماعت اور نہ ہی نمائندے روک سکتے ہیں، اگر یہ عوام کے دل کی آواز ہے تو یہ ہو کر رہے گی، میں اِس نوکری پر رہوں یا نہ رہوں، میں اِس چیز سے اب پیچھے نہیں ہٹوں گا۔محسن نقوی نے مزید کہا کہ ہمیں سب کو ماننا ہوگا کہ نظام کو ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے، نظام کو ری سیٹ کرنے کا مقصد کسی چیز کو ختم کرنا نہیں بلکہ اسے بہتر بنانا ہے، نظام میں ری سیٹ آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کرنا ہوگا، نظام میں تبدیلی آئین کے مطابق اور سیاسی اتفاق رائے سے ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس کا فیصلہ سیاسی جماعت یا ایک شخص کی مرضی سے نہیں ہونا چاہیے، نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا فیصلہ پاکستان کی عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے، عوام نئے انتظامی یونٹس چاہتی ہے تو انہیں ہر صورت بنایا جانا چاہیے، عوام نئے انتظامی یونٹس نہیں چاہتی تو کسی صورت یہ یونٹس نہیں بننے چاہئیں، نئے انتظامی یونٹس کےحوالے سے آئین میں عوام کو دیا گیا حق تسلیم کرنا ہوگا۔محسن نقوی نے کہاکہ 80 سال پہلے ایک خاندان ایک گھر میں رہتا تھا لیکن آج خاندان بڑھ چکے ہیں، جب خاندان پھیلتا ہے تو رہنے کے لیے ایک گھر سے دو اور پھر کئی گھر درکار ہوتے ہیں،  آبادی اور ضروریات بڑھنے کے ساتھ نظام اور انتظامی ڈھانچے کو بھی تبدیل کرنا ہوگا، اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے پر سب کو اضطراب ہے، اس اضطراب دور کرنا ہوگا، آئین کے دائرے میں رہ کراختیارات نچلی سطح تک منتقل کیےجاسکتے ہیں، کسی بھی صورت غیر قانونی اقدام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس نسل یا برادری کی بنیاد پر نہیں، بہتر حکمرانی کے لیے بننے چاہئیں، جنوبی یا شمالی پنجاب بننے سے پنجابی کی شناخت ختم نہیں ہوگی، سندھ کے نئے انتظامی یونٹس بننے سے سندھی کی شناخت کوئی نہیں چھین سکتا، انتظامی تقسیم کا مقصد حکومتوں کی تعداد بڑھانا نہیں،حکمرانی کا نظام بہتر بنانا ہے.اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ انفراسٹرکچر برقرار رہے گا، صرف اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں گے، پارلیمنٹ اور میڈیا کو بھی نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، انتظامی یونٹس کے نقشے یا پلان پہلے سے طے نہیں ہونے چاہئیں، نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر کسی ایک تجویز پر پہلے سے فکس نہیں ہونا چاہیے، پاکستان کے مفاد میں جو بھی فیصلہ ہوگا اسے سب کو تسلیم کرنا چاہیے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ نئے صوبوں کا فیصلہ عوام کی مرضی سے ہوگا، یہ صرف اس صورت میں ہوگا جب عوام چاہیں گے، آپ کی رائے کی اہمیت نہیں، عوام کی رائے کی اہمیت ہے۔ اگر اس معاملے میں عوام کی مرضی ہے تو اسے ہونے دینا چاہیے۔محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ایڈمنسٹریٹو یونٹ سے متعلق آجکل بہت جذباتی تقاریر ہورہی ہیں، پلیز اس پر جذباتی نہ ہوں، یہ ایسی چیز نہیں ہے جو کل پرسوں ہونے جارہی ہے،یہ صرف اس صورت میں ہوگی اگر عوام چاہے گی،اس میں آپ کی رائے میٹر نہیں کرتی عوام کی رائے اہمیت رکھتی ہے،سارے ریلیکس رہیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *