dailyreformer.pk
July 10, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
منگی ڈیم حملے کے بعد بلوچستان میں آپریشن شعبان جاری، 5 روز میں 79 دہشت گرد ہلاکوزیراعلیٰ بلوچستان سے مظاہرین کے مذاکرات کامیاب، 5 روز سے جاری دھرنا ختم، 11 افراد بھی بازیاببلوچستان سے ٹرین آج دوسرے روز بھی معطلوفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور کی مسماری کے سپریم کورٹ کے احکامات واپس لے لیےبھارت؛ انتہا پسند بی جے پی کے زیراقتدارریاست مہاراشٹرامیں اقلیتوں کا جینا محالٹرمپ کے قتل کی نئی سازش؟ ایرانی منصوبے سے متعلق اسرائیلی انٹیلی جنس کا بڑا انکشاففیفا ورلڈکپ: ایمباپے نے میسی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، مزید کئی ریکارڈز اپنے نام کرلیےسنیتا کے ’گولی مارنے‘ والے بیان پر گووندا نے دلچسپ جواب دے دیاخبردار! آپ کی فیس بک پوسٹ کسی سائبر کرائم مافیا کی منفی سرگرمی کا ذریعہ بن سکتی ہےپاکستان اور دنیا بھر سے پولیو کے مکمل خاتمے کیلیے آئندہ 6 ماہ فیصلہ کن قرارمنگی ڈیم حملے کے بعد بلوچستان میں آپریشن شعبان جاری، 5 روز میں 79 دہشت گرد ہلاکوزیراعلیٰ بلوچستان سے مظاہرین کے مذاکرات کامیاب، 5 روز سے جاری دھرنا ختم، 11 افراد بھی بازیاببلوچستان سے ٹرین آج دوسرے روز بھی معطلوفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور کی مسماری کے سپریم کورٹ کے احکامات واپس لے لیےبھارت؛ انتہا پسند بی جے پی کے زیراقتدارریاست مہاراشٹرامیں اقلیتوں کا جینا محالٹرمپ کے قتل کی نئی سازش؟ ایرانی منصوبے سے متعلق اسرائیلی انٹیلی جنس کا بڑا انکشاففیفا ورلڈکپ: ایمباپے نے میسی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، مزید کئی ریکارڈز اپنے نام کرلیےسنیتا کے ’گولی مارنے‘ والے بیان پر گووندا نے دلچسپ جواب دے دیاخبردار! آپ کی فیس بک پوسٹ کسی سائبر کرائم مافیا کی منفی سرگرمی کا ذریعہ بن سکتی ہےپاکستان اور دنیا بھر سے پولیو کے مکمل خاتمے کیلیے آئندہ 6 ماہ فیصلہ کن قرار

وزیراعلیٰ بلوچستان سے مظاہرین کے مذاکرات کامیاب، 5 روز سے جاری دھرنا ختم، 11 افراد بھی بازیاب

وزیراعلیٰ بلوچستان سے مظاہرین کے مذاکرات کامیاب، 5 روز سے جاری دھرنا ختم، 11 افراد بھی بازیاب

کوئٹہ: 

کوئٹہ کے علاقے ہنہ اوڑک کے سانحے کے خلاف ایئرپورٹ روڈ پر گزشتہ پانچ روز سے جاری احتجاجی دھرنا وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور دھرنا کمیٹی کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد ختم کر دیا گیا۔

دھرنا ختم ہونے کے ساتھ ہی شرکاء نے احتجاجی کیمپ اور ٹینٹ ہٹا دیے جبکہ پانچ روز سے بند ایئرپورٹ روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بحال کر دی گئی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے دھرنا کمیٹی، شہداء کے لواحقین اور قبائلی عمائدین سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی۔

ملاقات میں صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، سینیٹر منظور احمد کاکڑ، کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہ زیب کاکڑ، معاون خصوصی برائے اطلاعات شاہد رند اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

معاون خصوصی شاہد رند کے مطابق دھرنا کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کامیاب رہے، جس کے بعد لواحقین نے وزیراعلیٰ کی یقین دہانیوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ پہلے دن سے دھرنا کمیٹی کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور مسئلے کے پرامن، باوقار اور دیرپا حل کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں اور ان کے بزرگوں کے ساتھ ان کا دیرینہ تعلق احترام اور اعتماد پر مبنی ہے، جو آئندہ بھی برقرار رہے گا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے کسی بھی سطح پر کوئی کوتاہی یا غلطی ہوئی ہے تو اسے تسلیم کرتے ہوئے اس کا ازالہ کیا جائے گا اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن داد رسی فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی موجودگی میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں جن پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ہنہ اوڑک سانحے کے شہداء کے ورثاء کو مالی معاوضہ دیا جائے گا، اہل خانہ کو سرکاری ملازمتیں فراہم کی جائیں گی جبکہ شہداء کے بچوں کی تعلیم کے تمام اخراجات حکومت بلوچستان برداشت کرے گی۔

وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔

واضح رہے کہ 5 جولائی کو کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک، کلی ببری میں نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کرکے 5 شہریوں کو قتل، 8 افراد کو زخمی جبکہ 11 افراد کو اغوا کر لیا تھا۔ اس واقعے کے خلاف لواحقین اور اہلِ علاقہ نے ایئرپورٹ روڈ پر پانچ روز تک دھرنا دیا تھا، جس کے باعث شہر کی اہم شاہراہ بند رہی اور ٹریفک شدید متاثر ہوئی۔

دوسری جانب صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے تصدیق کی ہے کہ حملے کے دوران اغوا کیے گئے تمام 11 افراد بازیاب ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق 10 مغوی جمعرات کی شب بازیاب ہوئے جبکہ ایک مغوی ایک روز قبل رہا ہوا تھا، اور تمام افراد کو بحفاظت کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے بھی مغویوں کی بازیابی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت بلوچستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور قبائلی عمائدین کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں تمام مغویوں کو بازیاب کرایا گیا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *