dailyreformer.pk
October 18, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
کوئٹہ کی پلوشہ شہزادی نے معذوری کے باوجود وکالت میں کامیابی حاصل کرلیخضدار میں 5.9 شدت کا زلزلہ، ایک شخص جاں بحقوزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا قومی سلامتی پر اہم بیانپاک ایران سرحد پر تجارتی سرگرمیاں عارضی طور پر معطلبلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے تین آپریشنز، 8 دہشت گرد ہلاکTender Notice: Medical Superintendent District AwaranTender Notice: Director Procurement BPPPRAبلوچستان حکومت کی انتظامی اصلاحات، محکموں کی کارکردگی کا جائزہکوئٹہ میں ٹریفک سگنلز فعال، سیف سٹی سے نظام منسلک کرنے کا اعلانایس ایس پی ٹریفکسی پیک کے مغربی روٹ پر 310 ارب روپے کے شاہراہ منصوبےکوئٹہ کی پلوشہ شہزادی نے معذوری کے باوجود وکالت میں کامیابی حاصل کرلیخضدار میں 5.9 شدت کا زلزلہ، ایک شخص جاں بحقوزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا قومی سلامتی پر اہم بیانپاک ایران سرحد پر تجارتی سرگرمیاں عارضی طور پر معطلبلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے تین آپریشنز، 8 دہشت گرد ہلاکTender Notice: Medical Superintendent District AwaranTender Notice: Director Procurement BPPPRAبلوچستان حکومت کی انتظامی اصلاحات، محکموں کی کارکردگی کا جائزہکوئٹہ میں ٹریفک سگنلز فعال، سیف سٹی سے نظام منسلک کرنے کا اعلانایس ایس پی ٹریفکسی پیک کے مغربی روٹ پر 310 ارب روپے کے شاہراہ منصوبے

جسمانی معذوری کو شکست دے کر پاکستانی نوجوان نے لاکھوں کا کاروبار کھڑا کر دیا

جسمانی معذوری کو شکست دے کر پاکستانی نوجوان نے لاکھوں کا کاروبار کھڑا کر دیا

لاہور سے تعلق رکھنے والے عبدالمعید ایک نایاب جینیاتی بیماری کے باعث جسم کا بیشتر حصہ حرکت دینے سے قاصر ہیں لیکن جسمانی مشکلات ان کے کاروباری سفر کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔ وہ آج صرف ایک انگلی کی مدد سے لاکھوں روپے کا ڈیجیٹل کاروبار چلا رہے ہیں۔

عبدالمعید کو محض 7 سال کی عمر میں ڈوشین مسکیولر ڈسٹروفی نامی بیماری کی تشخیص ہوئی جس کے باعث وقت کے ساتھ پٹھے مسلسل کمزور ہوتے جاتے ہیں۔ 10 سال کی عمر تک وہ ویل چیئر کے محتاج ہو گئے۔

عبدالمعید کے مطابق ڈاکٹروں نے ان کے اہلِ خانہ کو بتایا تھا کہ اس بیماری کا کوئی علاج نہیں اور ممکن ہے کہ وہ 20 سال کی عمر تک ہی زندہ رہ سکیں۔ بعدازاں 2010 میں بیماری نے ان کے پھیپھڑوں کو بھی متاثر کیا اور انہیں سانس لینے کیلئے وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑنے لگی۔

آج عبدالمعید کی عمر 30 سال سے زائد ہے۔ بیماری کے باعث ان کے جسم کی حرکت انتہائی محدود ہو چکی ہے، تاہم وہ اپنے ہاتھ کی ایک انگلی حرکت دے سکتے ہیں اور اسی کے ذریعے کمپیوٹر اور دیگر ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں۔

عبدالمعید اپنی کمپنی امیزنگ گیمنگ کے چیئرمین ہیں اور ایک انگلی سے ٹائپ کر کے نہ صرف اپنی ٹیم سے رابطے میں رہتے ہیں بلکہ کاروباری اہداف اور دیگر معاملات بھی دیکھتے ہیں۔

ان کی کہانی سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد صارفین کی بڑی تعداد نے ان کے حوصلے، عزم اور مشکلات کے باوجود خود کو معاشی طور پر فعال رکھنے کی کوشش کو سراہا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *