dailyreformer.pk
September 4, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
ٹینڈر کے لیے نوٹس: ڈپٹی ڈائریکٹر، زراعت (آن فارم واٹر مینجمنٹ)، ضلع بارکھاناطلاع عام:بلوچستان ہیلتھ کارڈ کے مریض سندھ کا سفر فی الحال مؤخر کریںمیجر جنرل فیصل نصیر تین سال کے لیے نیکٹا کے کوآرڈینیٹر مقرر نوٹیفیکشن جاریآپریشن ردالفتنہ 3؛ کچھی میں سیکیورٹی فورسز نے حملہ ناکام بنا دیا، کئی دہشتگرد ہلاکجون 2027ء تک پیٹرول کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے کا ہدف مقررملک میں مہنگائی کی رفتار بڑھ گئی؛ مزید 17 اشیا کی قیمتوں میں اضافہحکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات 7 ستمبر کو ہوں گےفلپائن کی عدالت نے نائب صدر کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیےجرمنی نے یوکرین کیلئے ڈرونز کی پیداوار میں اضافہ کردیاامریکا کو عرب ممالک اور ایرانی خودمختاری کی کوئی پروا نہیں، عباس عراقچیٹینڈر کے لیے نوٹس: ڈپٹی ڈائریکٹر، زراعت (آن فارم واٹر مینجمنٹ)، ضلع بارکھاناطلاع عام:بلوچستان ہیلتھ کارڈ کے مریض سندھ کا سفر فی الحال مؤخر کریںمیجر جنرل فیصل نصیر تین سال کے لیے نیکٹا کے کوآرڈینیٹر مقرر نوٹیفیکشن جاریآپریشن ردالفتنہ 3؛ کچھی میں سیکیورٹی فورسز نے حملہ ناکام بنا دیا، کئی دہشتگرد ہلاکجون 2027ء تک پیٹرول کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے کا ہدف مقررملک میں مہنگائی کی رفتار بڑھ گئی؛ مزید 17 اشیا کی قیمتوں میں اضافہحکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات 7 ستمبر کو ہوں گےفلپائن کی عدالت نے نائب صدر کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیےجرمنی نے یوکرین کیلئے ڈرونز کی پیداوار میں اضافہ کردیاامریکا کو عرب ممالک اور ایرانی خودمختاری کی کوئی پروا نہیں، عباس عراقچی

دماغ کی مہلک رسولیوں کی تشخیص کیلئے جدید نظام تیار

سائنس دانوں نے ایک جدید مصنوعی ذہانت (اے آئی) نظام تیار کیا ہے جو دماغی رسولیوں کی تشخیص صرف 12 منٹ میں کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ رفتار موجودہ اوسط تشخیصی وقت 12 دن کے مقابلے میں حیران کن حد تک تیز ہے اور ماہرین کے مطابق یہ دنیا بھر میں دماغی کینسر کی تشخیص کے طریقہ کار میں انقلاب لا سکتی ہے۔

جرمنی کے شہر ہائیڈلبرگ کے ماہرین نے ہیٹائروس نامی ایک جدید اے آئی سسٹم تیار کیا ہے، جو دماغی رسولیوں کی شناخت اور تشخیص غیرمعمولی درستگی اور رفتار کے ساتھ انجام دے سکتا ہے۔

حالیہ برسوں میں یہ بات واضح ہوئی ہے کہ بہت سی دماغی رسولیوں کی درست تشخیص صرف اس وقت ممکن ہوتی ہے جب ان کی مالیکیولر خصوصیات اور خردبینی ساخت دونوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔

تاہم، یہ ٹیسٹ نہایت پیچیدہ ہوتے ہیں، مہنگے آلات کی ضرورت پڑتی ہے اور نتائج آنے میں اکثر دو ہفتے تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

اسی مشکل کو حل کرنے کے لیے جرمنی کے محققین نے ایک ایسا اے آئی نظام تیار کیا جو دماغی کینسر کی تشخیص کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور قابلِ رسائی بنا سکے۔

ٹیم کی رہنمائی کرنے والوں میں ایک مورٹز گرسٹنگ (جن کا تعلق جرمن کینسر ریسرچ سینٹر سے ہے) نے بتایا کہ ہیٹائروس اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اے آئی سے لیس ڈیجیٹل پیتھالوجی طبی تشخیص کے شعبے میں انقلاب برپا کر سکتی ہے، اس کی بدولت ایسے تیز رفتار اور وسیع پیمانے پر دستیاب تشخیص کے طریقے ممکن ہو رہے ہیں، جن کے لیے پہلے انتہائی پیچیدہ تکنیکی وسائل درکار ہوتے تھے۔

شیئر کریں: WhatsApp

Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *