dailyreformer.pk
June 11, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
کوئٹہ، ینگ ڈاکٹرز کے احتجاج پر سخت ایکشن، 23 ڈاکٹر معطل، 25 افسران کو شوکاز نوٹسزآئندہ مالی سال کا بجٹ کل پیش کیا جائے گا، ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے سمیت اہم نکات سامنے آگئےایران پر آج شدید حملے کرکے تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے؛ ٹرمپفیفا ورلڈ کپ 2026 کی افتتاحی تقریب سے قبل میکسیکو میں سیکڑوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئےمیکسیکو میں فیفا ورلڈ کپ کا میلہ سج گیا، پاکستانی وفد کی بھی شرکترومانوی اداکار سنتوش کمار کو مداحوں سے بچھڑے 44 برس گزر گئےواٹس ایپ کی اسٹیٹس سے متعلق اہم فیچر متعارف کرانے کی تیاریدماغ کی مہلک رسولیوں کی تشخیص کیلئے جدید نظام تیارعوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے تربت میں جدید ترین ایف سی اسپتال تیار کوئٹہ میں تیزاب گردی کا شکار ڈاکٹر ماہ نور کی صحت سے متعلق تفصیلات سامنے آ گئیںکوئٹہ، ینگ ڈاکٹرز کے احتجاج پر سخت ایکشن، 23 ڈاکٹر معطل، 25 افسران کو شوکاز نوٹسزآئندہ مالی سال کا بجٹ کل پیش کیا جائے گا، ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے سمیت اہم نکات سامنے آگئےایران پر آج شدید حملے کرکے تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے؛ ٹرمپفیفا ورلڈ کپ 2026 کی افتتاحی تقریب سے قبل میکسیکو میں سیکڑوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئےمیکسیکو میں فیفا ورلڈ کپ کا میلہ سج گیا، پاکستانی وفد کی بھی شرکترومانوی اداکار سنتوش کمار کو مداحوں سے بچھڑے 44 برس گزر گئےواٹس ایپ کی اسٹیٹس سے متعلق اہم فیچر متعارف کرانے کی تیاریدماغ کی مہلک رسولیوں کی تشخیص کیلئے جدید نظام تیارعوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے تربت میں جدید ترین ایف سی اسپتال تیار کوئٹہ میں تیزاب گردی کا شکار ڈاکٹر ماہ نور کی صحت سے متعلق تفصیلات سامنے آ گئیں

کینسر سے بچاؤ کی ویکسین تیار، جلد آزمائش کی جائے گی

یونیورسٹی آف آکسفورڈ اور دوا ساز کمپنی موڈرنا نے مشترکہ طور پر ایک ایسی ویکسین تیار کی ہے جس کا مقصد اُن افراد کو بچانا ہے جو آنتوں اور بیضہ دانی کے کینسر کے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔ تاہم، ویکسین کا آزمائش کے مرحلے سے گزارنا ابھی باقی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ ویکسین ایم آر این اے ٹیکنالوجی پر مبنی ہے اور مستقبل میں اسی ٹیکنالوجی کو دیگر اقسام کے کینسر کی روک تھام کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ تحقیق خاص طور پر لِنچ سنڈروم کے مریضوں پر مرکوز ہے۔ یہ ایک موروثی عارضہ ہے جو آنتوں، رحم، بیضہ دانی، معدے، لبلبے، گردوں اور جلد سمیت کئی اقسام کے کینسر کے خطرے کو نمایاں طور پر بڑھا دیتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ میں تقریباً ہر 300 افراد میں سے ایک شخص لنچ سنڈروم کا شکار ہے۔ مگر صرف پانچ فی صد افراد کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس بیماری میں مبتلا ہیں۔ جبکہ ہر سال انگلینڈ میں تقریباً 1100 آنتوں کے کینسر کے کیسز لنچ سنڈروم کی وجہ سے سامنے آتے ہیں۔

یہ عارضہ زندگی میں آنتوں کے کینسر کے خطرے کو تقریباً 80 فی صد تک بڑھا سکتا ہے۔

اس موسمِ گرما میں شروع ہونے والی تحقیق میں یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ آیا ایم آراین اے-4194 نامی ویکسین انسانی مدافعتی نظام کو اس قابل بنا سکتی ہے کہ وہ قبل از کینسر خلیات کو پہچان کر ختم کر دے، اس سے پہلے کہ وہ حقیقی کینسر میں تبدیل ہوں۔

ٹرائل کے سربراہ اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں ریسرچ فیلو ڈیوڈ چرچ کا کہنا تھا کہ اس تحقیق کا مقصد ویکسین کے ذریعے مدافعتی نظام کو تربیت دینا ہے تاکہ وہ غیر معمولی خلیات کو پہچان سکے اور انہیں کینسر بننے سے پہلے ہی روک دے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایم آر این اے ویکسین دراصل جسم کے لیے ایک ہدایت نامے کی طرح کام کرتی ہے، جو مدافعتی نظام کو بتاتی ہے کہ کن قبل از کینسر خلیات پر حملہ کرنا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

newupload

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *