dailyreformer.pk
November 5, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
بلوچستان سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی نقل مکانی پر گورنر کا اظہارِ تشویشبلوچستان میں امن و امان کا اعلیٰ سطحی جائزہ، سیف سٹی منصوبوں کے لیے فنڈز کی ہدایتبلوچستان کے 9 شہروں میں سیف سٹی منصوبوں کے لیے پنجاب کا تعاونکوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسمِ سرما کی پہلی بارشTender Notice: Chief Officer Municipal Corporation HubTender Notice: Manager Sheikh Zayed Al Nahyan Institute of CardiologyTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District PanjgurTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District Gwadarبلوچستان میں 17 مبینہ دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں صحافیوں کا یومِ سیاہ، تنخواہوں اور میڈیا دفاتر کی بندش پر احتجاجبلوچستان سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی نقل مکانی پر گورنر کا اظہارِ تشویشبلوچستان میں امن و امان کا اعلیٰ سطحی جائزہ، سیف سٹی منصوبوں کے لیے فنڈز کی ہدایتبلوچستان کے 9 شہروں میں سیف سٹی منصوبوں کے لیے پنجاب کا تعاونکوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسمِ سرما کی پہلی بارشTender Notice: Chief Officer Municipal Corporation HubTender Notice: Manager Sheikh Zayed Al Nahyan Institute of CardiologyTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District PanjgurTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District Gwadarبلوچستان میں 17 مبینہ دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں صحافیوں کا یومِ سیاہ، تنخواہوں اور میڈیا دفاتر کی بندش پر احتجاج

ایبولا وائرس کی نئی قسم کیخلاف ویکسین سے متعلق اہم پیشرفت

آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنس دان ایبولا وائرس کی ایک نئی قسم کے خلاف ویکسین تیار کرنے میں مصروف ہیں، اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ ویکسین چند ہی ماہ میں کلینیکل ٹرائلز کے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔

اس وقت ڈیموکریٹک ریپبلک آف دی کانگو میں ایبولا کے ’بیونڈی بُگیو‘ نامی خطرناک وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے۔

سرکاری طور پر اس سے سات افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ مزید 177 اموات بھی اسی وائرس سے جوڑی جا رہی ہیں۔

تشویشناک بات یہ ہے کہ اس مخصوص قسم کے ایبولا کے لیے تاحال نہ کوئی منظور شدہ ویکسین موجود ہے اور نہ ہی اس کا کوئی مؤثر علاج ہے۔

جمعے کے روز آکسفورڈ کے ماہرین نے بتایا کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر ایسی ویکسین تیار کر رہے ہیں جو وائرس کے بے قابو پھیلاؤ کی صورت میں فوری استعمال کی جا سکے۔

محققین کی ٹیم ChAdOx1 BDBV نامی ویکسین پر کام کر رہی ہے، جو ’وائرل ویکٹر‘ ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ یہی جدید طریقہ اس سے قبل کئی ابھرتی وباؤں، خصوصاً کووڈ-19 کی ویکسین کی تیاری میں بھی استعمال کیا جا چکا ہے۔

وائرل ویکٹر ویکسین میں ایک بے ضرر اور تبدیل شدہ وائرس کو بطور ’ڈیلیوری سسٹم‘ استعمال کیا جاتا ہے، جو انسانی خلیوں تک جینیاتی ہدایات پہنچاتا ہے تاکہ جسم بیماری کے خلاف مضبوط مدافعت پیدا کر سکے۔

شیئر کریں: WhatsApp

Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *