dailyreformer.pk
November 5, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
بلوچستان سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی نقل مکانی پر گورنر کا اظہارِ تشویشبلوچستان میں امن و امان کا اعلیٰ سطحی جائزہ، سیف سٹی منصوبوں کے لیے فنڈز کی ہدایتبلوچستان کے 9 شہروں میں سیف سٹی منصوبوں کے لیے پنجاب کا تعاونکوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسمِ سرما کی پہلی بارشTender Notice: Chief Officer Municipal Corporation HubTender Notice: Manager Sheikh Zayed Al Nahyan Institute of CardiologyTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District PanjgurTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District Gwadarبلوچستان میں 17 مبینہ دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں صحافیوں کا یومِ سیاہ، تنخواہوں اور میڈیا دفاتر کی بندش پر احتجاجبلوچستان سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی نقل مکانی پر گورنر کا اظہارِ تشویشبلوچستان میں امن و امان کا اعلیٰ سطحی جائزہ، سیف سٹی منصوبوں کے لیے فنڈز کی ہدایتبلوچستان کے 9 شہروں میں سیف سٹی منصوبوں کے لیے پنجاب کا تعاونکوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسمِ سرما کی پہلی بارشTender Notice: Chief Officer Municipal Corporation HubTender Notice: Manager Sheikh Zayed Al Nahyan Institute of CardiologyTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District PanjgurTender Notice: Executive Engineer (Buildings) CWPP&H Department District Gwadarبلوچستان میں 17 مبینہ دہشت گرد ہلاکبلوچستان میں صحافیوں کا یومِ سیاہ، تنخواہوں اور میڈیا دفاتر کی بندش پر احتجاج

مائیگرین کی دوا حمل ضائع ہونے کے خطرات بڑھا سکتی ہے: تحقیق

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مائیگرین کے لیے استعمال ہونے والی ایک دوا حمل کے ابتدائی مہینوں میں حمل ضائع ہونے کے خطرات بڑھا سکتی ہے۔

کیلسیٹونِن جین-ریلیٹڈ پیٹائیڈ (سی جی آر پی) مونو کلونل اینٹی باڈیز کہلائی جانے والی یہ یہ ادویات انجیکشن کی صورت میں دی جاتی ہیں اور مائیگرین کے تقریباً 50 فی صد مریضوں میں اٹیک کی روک تھام میں مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں بعض ماہرین ’ونڈر ڈرگ‘ بھی قرار دیتے ہیں۔

تاہم، حال ہی میں امیریکن ہیڈ ایک سوسائٹی کی سالانہ میٹنگ میں پیش کی گئی ایک نئی تحقیق کے مطابق اگر یہ ادویات حمل کے ابتدائی مرحلے میں استعمال کی جائیں تو حمل ضائع ہونے کا خطرہ 45 فی صد تک بڑھ سکتا ہے۔

تحقیق میں 15 سے 45 سال عمر کی 7119 خواتین اور ان کے 7579 حمل کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ تمام خواتین کو حمل سے پہلے مائیگرین کی تشخیص ہو چکی تھی۔

محققین نے خواتین کو تین گروپوں میں تقسیم کیا۔ وہ خواتین جو سی جی آر پی مونوکلونل اینٹی باڈی انجیکشن استعمال کر رہی تھیں، وہ جو پروپرینولول استعمال کر رہی تھیں اور اور وہ جو کوئی دوا استعمال نہیں کر رہی تھیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ حمل کے 8 سے 12 ہفتوں کے دوران سی جی آر پی ادویات استعمال کرنے والی خواتین میں حمل ضائع ہونے کی شرح دیگر گروپوں کے مقابلے میں زیادہ تھی۔

اعداد و شمار کے مطابق صرف پروپرینولول استعمال کرنے والی خواتین میں حمل ضائع ہونے کی شرح تقریباً 2 فی صد تھی جبکہ سی جی آر پی ادویات استعمال کرنے والی خواتین میں یہ شرح 5 فی صد تک پہنچ گئی۔

شیئر کریں: WhatsApp

Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *