dailyreformer.pk
September 5, 2026
🌤 Quetta --°
تازہ خبریں
ٹینڈر کے لیے نوٹس: ڈپٹی ڈائریکٹر، زراعت (آن فارم واٹر مینجمنٹ)، ضلع بارکھاناطلاع عام:بلوچستان ہیلتھ کارڈ کے مریض سندھ کا سفر فی الحال مؤخر کریںمیجر جنرل فیصل نصیر تین سال کے لیے نیکٹا کے کوآرڈینیٹر مقرر نوٹیفیکشن جاریآپریشن ردالفتنہ 3؛ کچھی میں سیکیورٹی فورسز نے حملہ ناکام بنا دیا، کئی دہشتگرد ہلاکجون 2027ء تک پیٹرول کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے کا ہدف مقررملک میں مہنگائی کی رفتار بڑھ گئی؛ مزید 17 اشیا کی قیمتوں میں اضافہحکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات 7 ستمبر کو ہوں گےفلپائن کی عدالت نے نائب صدر کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیےجرمنی نے یوکرین کیلئے ڈرونز کی پیداوار میں اضافہ کردیاامریکا کو عرب ممالک اور ایرانی خودمختاری کی کوئی پروا نہیں، عباس عراقچیٹینڈر کے لیے نوٹس: ڈپٹی ڈائریکٹر، زراعت (آن فارم واٹر مینجمنٹ)، ضلع بارکھاناطلاع عام:بلوچستان ہیلتھ کارڈ کے مریض سندھ کا سفر فی الحال مؤخر کریںمیجر جنرل فیصل نصیر تین سال کے لیے نیکٹا کے کوآرڈینیٹر مقرر نوٹیفیکشن جاریآپریشن ردالفتنہ 3؛ کچھی میں سیکیورٹی فورسز نے حملہ ناکام بنا دیا، کئی دہشتگرد ہلاکجون 2027ء تک پیٹرول کی قیمتیں ڈی ریگولیٹ کرنے کا ہدف مقررملک میں مہنگائی کی رفتار بڑھ گئی؛ مزید 17 اشیا کی قیمتوں میں اضافہحکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات 7 ستمبر کو ہوں گےفلپائن کی عدالت نے نائب صدر کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیےجرمنی نے یوکرین کیلئے ڈرونز کی پیداوار میں اضافہ کردیاامریکا کو عرب ممالک اور ایرانی خودمختاری کی کوئی پروا نہیں، عباس عراقچی

امریکا: پیدائش سے پہلے بچے کی کامیاب سرجری، نقص رحمِ مادر میں ہی درست کر دیا گیا

امریکا: پیدائش سے پہلے بچے کی کامیاب سرجری، نقص رحمِ مادر میں ہی درست کر دیا گیا

برطانوی ڈاکٹروں اور امریکی ماہرین نے طب کی دنیا میں ایک اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے رحمِ مادر میں موجود بچے کی جدید سرجری کے ذریعے ایک سنگین پیدائشی نقص کامیابی سے درست کر دیا، جس کے بعد بچہ صحت مند حالت میں پیدا ہوا اور اب پانچ ماہ کا ہو کر معمول کے مطابق نشوونما پا رہا ہے۔

29 سالہ مائزی سیویج کی حمل کے 26ویں ہفتے میں امریکا میں سرجری کی گئی۔ ان کا بیٹا پیدائش سے قبل تھیو کو گیسٹروشیسس نامی کیفیت میں مبتلا تھا، جس میں ناف صحیح طور پر تشکیل نہیں پاتی اور آنتیں جسم سے باہر نشوونما پاتی ہیں۔

ماہرین نے جدید تحقیق کو استعمال کرتے ہوئے نہایت احتیاط سے بچے کی آنتوں کو دوبارہ پیٹ کے اندر منتقل کیا۔ تھیو اس منفرد کلینیکل ٹرائل سے فائدہ اٹھانے والا دنیا کا صرف تیسرا بچہ ہے۔

تھیو کے والدین، مائزی سیویج اور جوش فرنچ (جو دونوں پیشے کے اعتبار سے اساتذہ ہیں) نے اس کامیاب علاج پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بیٹے کو ’ایک معجزہ‘ قرار دیا۔

ماہرین کے مطابق گیسٹروشیسس ہر سال برطانیہ میں تقریباً تین ہزار میں سے ایک بچے کو متاثر کرتی ہے۔ پیچیدہ کیسز میں بچوں کو کئی ماہ انتہائی نگہداشت، متعدد سرجریوں، طویل عرصے تک مصنوعی غذائی معاونت اور بعض اوقات آنتوں کی پیوندکاری کی بھی ضرورت پیش آ سکتی ہے، جبکہ بہترین طبی سہولیات کے باوجود تقریباً ہر دس میں سے ایک بچہ جانبر نہیں ہو پاتا۔

تھیو کے والدین نے بتایا کہ حمل کے 20 ہفتوں کے معمول کے اسکین تک انہیں کسی مسئلے کا علم نہیں تھا۔ تاہم، اسی معائنے کے دوران بچے میں اس پیدائشی نقص کی تشخیص ہوئی، جس نے انہیں شدید صدمے اور تشویش میں مبتلا کر دیا۔

شیئر کریں: WhatsApp

Editor

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *